شیروانی


"فہیم اُٹھ جاؤ”

"امی آج تو سونے دیں، اتوار ہے آج”

 دیکھو کیا ٹائم ہورہا ہے، تمھارے ابا بازار گئے ہیں، آ کر تمھیں سوتا دیکھیں گے تو پھر بگڑیں گے”۔

اور فہیم اس کو آخری الٹیمیٹم جان کے آنکھیں ملتا، منہ بسورتا باہر آیا۔

"آج پھر چائے پاپے، نجانے کن پاپوں کی سزا مستقل پاپوں کی شکل میں مل رہی ہے”

اسنے قدرے ناگواری سے کہا۔

"اونہوں، ایسے نہیں کہتے، جو مل رہا ہے صبر شکر کرکے کھا لو، ایسے کتنے لوگ ہیں جنہیں یہ بھی نصیب نہیں” امی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

"مگر ایسے بھی تو کتنے لوگ ہیں جن کے دسترخوان پہ انواع و اقسام کے۔۔۔” اسنے شکوہ کیا

"فہیم، اپنی چادر دیکھ کے پاؤں پھیلانے چاہیئں” امی نے بات کاٹ کر ٹہوکا دیا، اور پھر توقف کے بعد بولیں۔

"یہ اوپر والے کی دین ہے، کسی کو زیادہ کسی کو کم، اس میں ہم انسانوں کی مرضی یا صوابدید کو دخل نہیں، اور تمھارا باپ کوئی شہر کا کمشنر نہیں کہ مانانہ آمدن کثیر ہو، نا ہی ہم کوئی خاندانی ریئس ہیں کہ پشتنی دولت پہ عیاشیاں کرتے پھریں”

"مگر امی، ایسے بھی گئے گزرے حالات نہیں اب ہمارے” اس نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا۔ پھر چائے میں ڈبویا ہوا پاپا کھاتے ہوئے بولا: "اب دیکھیں نا، ہم نے جہاں خرچ کرنا ہو بلا وجہ فضول خرچی کرتے رہتے ہیں، اسکی بجائے ہم اپنی روزمرہ زندگی بہتر بنا سکتے ہیں”

"کون سی فضول خرچی بیٹا؟ ہم تو اتنی کفایت شعاری سے گزر اوقات کرتے ہیں، جبھی تو دیکھو  ابھی چند ماہ پہلے تمھاری آپا کی کیسی شان و شوکت سے شادی کی۔”

"امی، یہی تو میں کہہ رہا ہوں، آپا کی شادی میں ہم نے کتنی فضول خرچی کی، اتنا زیور، جہیز اور ایسی پر شکوہ دعوتیں، مہمانوں کو اپنی حیثیت سے بڑھ کے قیمتی تحائف، اور آپا کی ساس کو سونے کا سیٹ، جبکہ خود انکے اپنے پاس ایسا قیمتی سیٹ نہیں تھا، آپ نے اپنی اور انکی حیثیت سے زیادہ قیمتی تخفہ دیدیا۔ کتنا قرض چڑھ گیا، آپا تو گئیں، اب ہماری نسلیں قرض کے بوجھ تلے دبی رہیں گی”

"تم ابھی بچے ہو، تم یہ باتیں نہیں سمجھتے بیٹا” انہوں نے جان چھڑواتے ہوئے کہا۔ اسی اثناء میں فہیم کے اباجو بازار تک گئے تھے وہ بھی لوٹ آئے اور گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے بولے۔

"کیوں بھئی میاں صاحبزادے، آپکو اپنی آپا کی شادی کے ٹھاٹھ باٹھ سے کیا مسئلہ ہے، جو اسکے نصیب کا تھا سو وہ لے گئی، اب جو ہے وہ تمھارا اور علی کا ہی ہے”

"یہ بات نہیں ہے ابا” وہ ملتجہ لہجے میں بولا

"تو پھر کیا بات ہے” ابا نے پوچھا

"بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی حیثیت سے زیادہ خرچہ کیا، بلا وجہ قرض لیا لوگوں سے، اور اصراف کیا، صرف اس لئے کہ لوگوں کے سامنے ہماری ناک اونچی رہے، مگر اس کا فائدہ تو نہیں ہے نہ کوئی بھی” فہیم نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا

"دیکھو بیٹا،ہم مڈل کلاس لوگ ہیں، مڈل کلاس والوں کے پاس نہ تو عیاشی کے لئے دولت وآسائشیں فراہم ہوتی ہیں اور نہ ماتم کرنے کو غربت۔ مڈل کلاس والوں کے پاس سفید پوشی ہوتی ہے، قائم رکھنے کو بھرم ہوتا ہے، اور یہی بھرم قائم رکھنا اسکی زندکی کا اولین مقصد، گول اور اچیومنٹ ہوتا ہے” ابا نے سمجھانے کے انداز میں کہا

"مگر ابا یہ کوئی ایکسکیوژ تو نہیں ہوا نا، ہم نے خود پر جان بوجھ کر یہ لیبل چپکایا ہوا ہے، ہمیں کسی نے مجبور تو نہیں کیا ہوا نا” اس نے دلیل دینے کے انداز میں کہا

"بیٹا ہمارے معاشرے میں سفید پوش آدمی کا لباس اسکا بھرم ہوتا ہے ورنہ وہ ننگ وجود تصور کیا جاتا ہے، سفید پوش انسان اپنا بھرم قائم رکھنے کی جدوجہد میں ہی عمر گزارتا ہے، یوں کہو کہ اسکی زندگی کا مقصد اور گول ہی اپنا امیج قائم رکھنا ہوتا ہے”

انہوں نے مزید وضاحت کے انداز میں کہا

"مگر ابا۔۔” فہیم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

"تمھاری سوچ اچھی ہے، مگر یہ کتابی باتیں ہیں، پریکٹکل لائف میں نہیں چلتیں یہ باتیں۔۔” ابا نے فیصلہ کن انداز میں کہا

"آج بازار سے تھوڑا پھل لیتے آئے گا، آمنہ کہہ رہی تھی شاید وہ چکر لگائے” امی نے ٹوکتے ہوئے فرمائش کی اور فہیم تلملا کر رہ گیا اور بولا: "اب آپا کے سامنے کیا بھرم رکھنا ہے، کیا وہ نہیں جانتی ہم پھل افورڈ نہیں کرتے۔۔۔”

————–٭٭٭٭————٭٭٭٭————

بات یونہی گزر گئی اور ہوتے ہوتے رمضان آگیا۔ عید کے تیسرے دن رضوان، جو کہ فہیم کا بہترین دوست تھا اسکی شادی قرار پائی۔ رضوان کا خاندان امیر اور انکا رہن سہن رئیسانہ تھا۔ رضوان کی بارات پر تمام دوستوں اور اسکے رشتہ داروں نے شیروانی پہننے کا پروگرام بنایا۔ بہت بحث مباحثے کے بعد شہر کے ایک معروف ڈیزائنر سے شیروانیاں سلوانے پر اتفاق ہوا اور فی کس قیمت 50000 طے ہوئی۔ یہ قیمت رضوان اسکے دیگر دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے تو مناسب تھی مگر فہیم کی قوتِ خرید سے باہر۔ اس نے پہلے بہانے سے ٹال مٹول کرنے کی کوشش کی، شرکت نہ کرنے کا ارادہ کیا، مگر تعلق ایسا تھا کہ یہ ممکن نہ تھا، ایک روز اسی طرح دوستوں کی محفل میں کسی دوست نے کہا، "یار فہیم، تم نے ابھی تک پیسے نہیں دیئے، اپنی بہن کی شادی پر اتنا خرچہ اور دوست کی شادی پر کنجوسی” دوسرا بولا "یار فہیم اگر تیرے پاس پیسے نہیں تو تُو بے شک کہیں اور سے سلوا لے شیروانی” تیسرا بولا "یا ہم سب دوست تھوڑے تھوڑے پیسے ملا کر دیتے ہیں” اور دوستوں نے بھی تائید کی۔ تب فہیم کو پہلی بار ابا کی بھرم اور سفید پوشی والی بات یاد آئی، اور اسکے اندر کا مڈل کلاس، انا والا انسان انگڑائیاں لیتا باہر آیا، اور کسی بھی امداد لینے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، بس مجھے یاد نہیں رہا، اسی ہفتے دے دونگا۔ اسنے ابا سے ذکر کیا تو انہوں نے 15000  تک کا وعدہ کیا اور ایک دفتری دوست سے ادھار لیا، باقی فہیم نے اپنی پرانی موٹر سائیکل  30000 میں فروخت کی، اور 5000روپے ایک اور دوست سے قرض لیا۔ عید سے ایک دن پہلے شیروانی سل کے آئی۔

————–٭٭٭٭————٭٭٭٭————

"امی میں عید پر بھائی کا پرانا سوٹ نہیں پہنوں گا” علی کی آواز صحن سے آئی

"بیٹا تمھیں پتا ہے نہ بھائی کی شیراونی بنوا لی ہے، تمھارے ابا اور میں بھی تو اپنے پرانے کپڑے ہی پہن رہے ہیں نا” امی کی آواز گونجی

"تو بھائی کو ذرا کم مہنگی والی شیروانی سلوا دیتے نا، اپنی چادر دیکھ کے پاؤں پھیلانا چاہئے” علی کا احتجاج جاری رہا

"بیٹا بھائی کے سب دوست ایک جیسی شیروانی پہن رہے ہیں نا، پھر کتنا برا لگتا بھائی اگر۔۔۔”

"مگر یہ ضروری تو نہیں ہے نا، بھائی کا بھرم رکھنا اتنا ہی ضروری تھا کہ اصراف کیا جائے، اپنی حیثیت سے بڑھ کر پہناوا خریدا جائے، قرض لیا جائے۔۔۔” علی نے بات کاٹتے ہوئے کہا

فہیم کمرے میں اپنی شیروانی کو دیکھ کر اونچی آواز میں بولا: ” علی، ہم مڈل کلاس لوگ ہیں، مڈل کلاس والوں کے پاس نہ تو عیاشی کے لئے دولت وآسائشیں فراہم ہوتی ہیں اور نہ ماتم کرنے کو غربت۔ مڈل کلاس والوں کے پاس سفید پوشی ہوتی ہے، قائم رکھنے کو بھرم ہوتا ہے، اور یہی بھرم قائم رکھنا اسکی زندکی کا اولین مقصد، گول اور اچیومنٹ ہوتا ہے”

علی ، فہیم کے جواب پر تلملا کے رہ گیا، ابا اخبار پڑھتے ہوئے اک لمحے کو مسکرائے اور پھر اخبار بینی میں مشغول ہوگئے۔

Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in افسانہ and tagged , , , , , , , . Bookmark the permalink.

One Response to شیروانی

  1. عامر ملک نے کہا:

    سچ ہے۔ ہمارے سماج میں تن من دھن صرف اسی بے وقعت چیز کے لیے قربان کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s