سیلز مین


life of salesman
بچپن میں بڑے بزرگ سوال پوچھا کرتے تھے کہ وہ کونسی مخلوق ہے جو 24 گھنٹے حرکت العمل میں ہوتی ہے تو ہم سوچا  کرتے تھے اور جواب ندارد۔ اب کوئی ہم سے پوچھے تو جھٹ سے کہہ دیں کہ ‘سیلزمین’۔ صبح کی پہلی کرن سے لیکر رات کے آخری تارے کے سوجانے تک، سیلزمین حرکت میں ہوتا ہے اور محاورے کو سچ کرتا دکھائی دیتا ہے۔  بات یہ ہرگز نہیں کہ میں نے کسی سیلز مین سے کمیشن کھایا ہے اسکو مظلوم ثابت کرنیکا، بلکہ ماجرا بقول اقبالؔ "نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں، ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں” والا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سیلز آپریشنز میں رہ کر جتنی ناپسندیدگی اور منفی سوچ تھی سیلزمینوں کے بارے میں وہ دو ماہ کی سیلز کی نوکری نے بے چارگی اور بے بسی میں بدل دی ہے۔ اور اب تو سیلزمینوں کے بارے میرا نقطہ نظر قطعی طور ہر "سیلز والا سیل منگدا، سیلزمین  پنڈی دا ہووے  پاویں جھنگ دا، سیلزمین سیل منگدا” ہوچکا ہے۔ تو یہ پوسٹ بس دل کے پھپھولے سہلانے کیلئے ہے۔ جیسے فوجی جنگ میں جاتے ہوئے عجب کشمکش میں ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کب کہاں سے کوئی گمنام گولی آئیگی اور میرا کام تمام کردیگی یا عمر بھر کیلئے مفلوج کردیگی، سیلزمین کی بیٹل فیلڈ یعنی مارکیٹ جاتے ہوئے بھی یہی کیفیت ہوتی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ فوجی کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے اور سیلزمین کو باس کا ڈنڈا (سمجھداروں کو اشارہ کافی ہے)۔

ابھی اگلے روز ہی احباب کے بیچ بحث چل پڑی کہ دنیا کی سب سے مظلوم، مسکین اور مفلوک الحال مخلوق کونسی ہے۔ یار دوستوں کی نظر میں یہ مقامِ ولایت شوہروں کو بارگاہِ ایزدی سے عطاء ہوا ہے۔ مانا کہ اچھا سیلزمین ایک کامیاب شوہر ہوتا ہے، مگر اچھا سیلزمین ہونے میں ٭٭٭٭٭ ہے صدمات سہتے سہتے۔ سیلزمین میں اور کوئی قابلیت ہو نہ ہو دو خوبیاں ضرور ہوتی ہیں۔ ایک تو سن لینے کی، دوسرا اس خوبی سے بات کا رخ بدلنے کی کہ آپکا دشمن بھی ساتھ دینے پر مجبور ہوجائے، جیسا کہ جینٹ رینو نے کہا تھا "اچھا وکیل بہترین سیلزمین ہوتا ہے”، میرا خیال ہے مزید بیان کی گنجائش نہیں رہتی۔

 صاحب دنیا میں بڑے بڑے مظلوم دیکھے مگر جو حالتِ زار سیلز مین کی ہوتی ہو وہ بقول شاعر "خوں رلائے گی یہ لگی دل کی، کھیل نہ سمجھو ، یہ سیلز مینی ہے دل لگی نہیں”۔ سیلز مین اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہے جو رنگ و نسل، جنس و زمانہ سے پاک ہے۔ چاہے وہ میرؔ کا زمانہ ہو یا آج کا مشینی دور میرؔ کا یہ مصرعہ سیلز مین کے کردار کی صحیح عکاسی کرتا ہے ؎ پھرتے ہیں میرخوار، کوئی پوچھتا نہیں۔ سب سے بڑی ستم ظریفی تو یہی ہے کہ سیلزمین آج کیلئے جیتا ہے، سکندر ہے تو فقط آج کیلئے، کل اگر سیلز نہ ہوئیں تو گئی بھینس پانی میں۔ آپ کہیں گے کیسا بے ربط بلاگ ہے، وہاں تعریف وتوصیف کی بات شروع کی اور بغیر وجہ کے اچانک ہی اسکو مفلوک الحال بنادیا۔ تو دوستو یہی ستم ظریفی ہے۔ سیلز مین کی زندگی واقعی میں پل میں تولا پل میں ماشہ ٹائپ کی ہے۔  روز صبح عزتِ سادات کو ساتھ لیکر نکلتے ہیں اور دن بھر ملامتِ زمانہ جھیلتے ہیں۔ ابھی ایوارڈ ملا ‘سیلزمین آف دی ائیر’ کا اور ابھی ہی باس یا کلائینٹ نے سرِعام بے آبرو کردیا۔ ایوارڈ سال بھر کا ہے، پل کی خبر نہیں!

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی پوسٹ مین کے بارے میں، کہ وہ صبح سویرے گھر سے نکل کر، کیسے کیسے ڈنڈ پیلتا ہے اور ہمارے پیاروں کی چٹھیاں ہم تک پہنچاتا ہے، اور ‘ان دا لائن آف ڈیوٹی’ کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کرتا، موسم کی تلخی نہ تند و تیز ہواؤں کو نہ ابروباراں کو خاطر میں لاتا ہے، اور یہ تمام سہولیات فقط رقمِ قلیل کے خرچ پر۔ اب جو دیکھیں تو یہی کام سیلزمین کرتے ہیں۔ کمپنی کوئی سی ہو، پراڈکٹ کوئی سا ہو، علاقہ کیسا ہی پرخطر کیوں نہ ہو، موسم کیسا ہی شدید کیوں نہ ہو، ساری دنیا گھروں میں کونوں کھدروں میں دبک کر بیٹھی ہوگی مگر سیلز مین، ابرار الحق کے گانے کے مصداق، سونیاں ہوجان گلیاں تے وچ ‘سوٹ بوٹ پا کے’ مرزا یار پھرے! کبھی سیلزمین عقاب کی طرح میلوں دور سے بھی اپنے شکار کو تاڑ لیتا اور آن کی آن میں جھپیٹ کے لیجاتا مگر اب حالات کی تنگدستی اور مارکیٹ سیچوریشن کے نتیجے میں سیلزمین اپنے شکار کی جانب ایسے لپکتے ہیں جیسے میٹھے پر ڈھیروں چیونٹیاں!

Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged , , , , , . Bookmark the permalink.

10 Responses to سیلز مین

  1. فضل دین نے کہا:

    ہاہاہا۔۔۔ زبردست تحریر ابرار بھائی۔
    آپ تو پتا نہیں اس مخلوق کا کبھی حصہ رہے ہیں یا نہیں، لیکن ہم اس کو بھگت چکے ہیں۔۔
    دیگر شعبوں میں پرانے بندے کی جتنی عزت بڑھتی ہے، یہاں اُتنا ہی گھسیٹا جاتا ہے۔۔۔ 🙂

  2. محمد سلیم نے کہا:

    اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کیلئے رزق میں آسانیاں پیدا فرمائیں۔ بہت خوبصورت لکھا، پڑھ کر مزا آیا۔

  3. Ataurrhman Mani نے کہا:

    ھم اس شعبے میں آنا چاھتے تھے لیکن ےع پرھکر توبہ

  4. ماریا خان نے کہا:

    بہت خوب مزاحیہ تحریر!

  5. پنگ بیک: دوسروں کو نصیحت، خود میاں فصیحت | FOXcey , News,Current Affairs and BlogsFOXcey , News,Current Affairs and Blogs

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s