وجودِ زن و تصویرِ کائنات کے رنگ


man's world   کل یار دوستوں کی ‘گوگل ہینگ آؤٹ‘ میں بات ہوئی کہ مزاح میں ہم صرف صنفِ نازک کا ہی سہارا کیوں لیتے ہیں۔ تو بات ذہن میں اٹک گئی۔ وہ علامہ اقبالؔ مرحوم نے ایویں نئیں کہا تھا ‘وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ’ کچھ بات تھی تو کہا تھا نا۔ مزاح تو چھوڑیں، ہمارا کیا، اقوامِ عالم کا تمام ادب صنفِ نازک کے گرد ہی گھومتا ہے۔ اب ذرا چشمِ تخیل سے دیکھیں اور سوچیں کہ اگر صنفِ نازک نہ ہوتی تو سارا کا سارا ادب و لٹریچر ہی کسی کام کا نہ رہتا۔ جنسِ مؤنث کی بات نہ ہوتی تو میرؔ کس کے لبوں کی نازکی بیان کرتے؟  اور مومن خاں مومنؔ کیا اپنے مالک مکان کیلئے کہتے ‘تم میرے پاس ہوتے ہو گویا، جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا’

شاعری تو چلیں یوں بھی جنرلائیز ہوسکتی ہے مگر ہم کو زیادہ فکر کلاسیک ٹیلز یعنی ‘امر پریم کہانیوں’ کی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر وجودِ زن نہ ہوتا اور کسی اور طرح سے تصویرِ کائنات میں رنگ بھرا ہوا ہوتا، لیلا مجنوں کے قصے میں لیلا ہی نہ ہوتی تو کہانی کچھ یوں بنتی:

"مجنوں نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا، عبث صحرا کی خاک چھانتا تھا، اسے لیلا کے کتے سے پیار تھا، لیلا کی گلی میں آتے جاتے کئی بار اسنے سر پھڑوا لیا مگر لیلا کے کتے کو ضرور بھونکتے ہوئے سنتا۔ مجنوں کے دوست اسکا بہت آڈا لگاتے ‘جا اوئے توں تے کتے پچھے کتا ای ہو گیا ایں’۔ لیلا انتظار میں تڑپتی رہتی مگر مجنوں جو کہ ایک نیک سیرت انسان اور شریف گھرانے کا فرد تھا، فقط اسکے کتے کو دیکھ دیکھ کر دل بہلاتا اور عشق کا چسکا پورا کرتا۔  محلے کے بچے جب جوش میں آکر کتے کی دم سے رسی باندھ کر اسے گھماتے اور پتھر مار کے ‘سگِ معشوقِ قیس’ کی دلفریب چاؤں چاؤں کا مزہ لیتے تو مجنوں دیوانہ وار بھونکتا، میرا مطلب چیختا پھرتا کہ ‘کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو’۔ اور بیمثال محبت کا اختتام اس اندوہ ناک خبر کے ساتھ ہوتا ‘اور سی-ڈی-اے کے عملے نے جیسے ہی کتے کو زہر کا انجکشن لگایا، قریب کھڑا مجنوں بھی شدت غم سے تڑپ تڑپ کر داعیِ اجل کو لبیک کہہ گیا۔ "

ہیر رانجھے کے پورے قصے میں ‘رانجھا مجھیاں ہی چراتا رہتا’ اور ہیر ونجھلی کی مٹھلی تان ایم پی تھری ورژن ڈاؤنلوڈ کرکے اپنے ‘آئی پاڈ’ پر سنا کرتی۔ چوری اپنے میاں مٹھو کو کھلاتی، اور رانجھا بھینس کے آگے بین بجا بجا کر کنوارا ہی مرجاتا۔ وارث شاہ صاحب پھر ہیر کی رخصتی کو یوں بیان کرتے:

                    ؎        میں جانا کھیڑیاں دے نال

                              کنی مندراں پا کے

                             رانجھے نوں نئیں میرا خیال

                            خوش رہوے مجھیاں نہوا کے

ہیر کے کھیڑیوں میں شادی بخوبی انجام پاتی، چاچا کیدو بھی ولن کی بجائے ہیر کا محسن ٹھہرتا اور ولیمہ والے دن رانجھے کی مجھیوں پر بیٹھ کر ناشتہ بھی لیکر جاتا، بعد ازاں ہیر کے بچے بھی لوگوں کے منہ سے اپنی امی کی لو سٹوری سننے کی اذیت سے بچ جاتے۔ رانجھا تخت ہزارے میں مجھیاں چراتا چراتا ‘ہیر رانجھا ڈیری’ کے نام سے اپنا بزنس کھول لیتا اور دولتِ عام و شہرتِ دوام پاتا۔

سوہنی مہیوال کا قصہ تو بزرگ خود بچوں کو ترغیب دینے کیلیئے سنایا کرتے کہ مہیوال روز چناب کنارے انتظار کرتا، روز گھڑا خود بخود تیر کر آجاتا اور مہیوال اس میں پانی بھر کے اردگرد سے سب گھروں میں دیکر لوگوں کی دعائیں اور ثوابِ دارین حاصل کرتا۔ زمانے کی تہمتوں سے بھی بچ جاتا اور سوہنی بھی ناحق ڈوبنے سے بچ جاتی۔ بلکہ بڑی ہوکر لیڈی ہیلتھ ورکر بنتی اور اہلیانِ محلہ کی آنکھ کا تارا ہوتی، دعائیں اور ثوابِ دارین حاصل کرتی۔

مغل بادشاہ بھی تاج محل و دیگر محلات و مقبرہ جات کی بجائے یونیورسٹیز اور ریسرچ سینٹرز بنانے پر زور دیتے۔ اپنے باپ کو قید اور بھائیوں کے ناحق قتل سے باز رہتے۔ شہزادہ سلیم بھی مہابلی کے ہاتھوں پبلک ہیومیلئشن (یعنی بے عزتی و ذلالت) سے محفوظ رہتے، انار کلی بجائے دیوار میں چنوائے جانے کے، گھر میں سکون سے زندگی بسر کرتی اور آخری عمر میں کتھک ناچ سینٹر کھول کر عوام الناس میں کلا بانٹتی۔

صنفِ نازک نہ ہوتی تو آجکل کی بے راہ رو نسل بھی لغویات سے بچ جاتی۔ رات رات بھر لمبی فون کالز اور موبائیل ایس ایم ایس۔ ہفتہ و مہینہ وار ملاقاتیں المعروف ‘ڈیٹ’ اور سالانہ عیدِ عشق موسوم بہ ویلنٹائینز ڈے وغیرہ سے بھی نجات ملتی۔ قوم و ملت کا وسیع سرمایہ کسی تعمیری مقصد پہ خرچ ہوتا۔  نوجوان توجہ پڑھائی پہ مرکوز رکھتے اور چھٹی ٹائم گرلز سکولز کے آگے کھڑے ہوکر ‘وہ تیری والی وہ میری والی’ کی بجائے کچھ بامقصد ریسرچ کرتے، معاشرے کی فلاح و بہبود میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے۔ یا وہ ہمارے محترم نظامی صاحب کی مانند درخت لگاتے۔ جہاں عشق کا احتمال ہوا وہیں ایک پودا گاڑ دیا۔ اور پھر جالبؔ مرحوم شعر یوں کہتے ‘یہ اعجاز ہے حسنِ شجر کاری کا ، جہاں عشق ہوا پودا چھوڑ آئے’۔  مگر کیا کریں، یہ مشیتِ ایزدی ہے کہ اسنے تصویرِ کائنات میں ‘وجودِ زن’ سے ہی رنگ بھرا ہے اور رنگ بھی ایسا کہ جو چہار سو پھیلا ہی پھیلا ہے، اجلا اجلا نکھرا نکھرا تو بقول شاعر ‘پھیلی ہوئی ہے چار سو بہار، میں خزان کو بیٹھ کر رؤوں کیسے’ والی بات ہے۔ اور نیچرلی بھی جنسِ مخالف سے ہی محبت کرنا بنتی ہے، دوسرا کیس ایکسپشن ہے اور اسے ‘ہم جنس پرستی’ کہا جاتا ہے، جو فی زمانہ اتنی معیوب نہ سہی، باعثِ گناہ ضرور ہے۔ واللہ اعلم بصواب۔

Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged . Bookmark the permalink.

9 Responses to وجودِ زن و تصویرِ کائنات کے رنگ

  1. Shoiab Safdar نے کہا:

    یعنی کے دنیا میں اعلیٰ ادب بے شک تخلیق نہ ہوتا مگر سکون ہوتا!
    اور مجنوں کتے کے پیار کی وجہ سے کتے پن سے، رانجھا مجھیوں کی ذمہ داری کی بناء پر کھیڑو کی عزت پامال کرنے سے باز رہتا اور مہیوال لمبی عمر جیتا!

  2. alikasca نے کہا:

    قریشی صاحب۔ ہم جنس پرستی فی الزمانہ معیوب نہیں ؟؟ کونسے علاقے سے تعلق ھے جی آپ کا۔ ؟
    🙂

  3. جوانی پِٹًا نے کہا:

    قریشی صاحب۔ ہم جنس پرستی فی الزمانہ معیوب نہیں ؟؟ کونسے علاقے سے تعلق ھے جی آپ کا۔ ؟
    🙂

  4. ddufferr نے کہا:

    ڈانٹ ٹیل می کہ اس پوسٹ میں افزائش نسل کے لئے کسی فارمی و شیوری طریقہ کار کا ذکر نہیں ھوا

  5. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    باقی بکھیڑے تو آپ نے گِن دیئے ہیں لیکن اماں حوّا نہ ہوتیں تو نہ آپ ہوتے نہ میں ہوتا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s