تبدیلی


نوٹ: اس پوسٹ سے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی ایجنڈے کی ترویج مطلوب ہے۔  الیکشن کی آمد آمد ہے سو ہم نے بھی سوچا بہتی گنگا میں اپنی رائے سے ہاتھ دھو لیں!
Pakistan politics
کافی سال پہلے یعنی اپنے بچپن میں سیاسی پسِ منظر کی ایک’بین شدہ’ کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں پردہ نشینوں کی درپردہ نشست و برخاست وغیرہ کا غیر پارلیمانی احاطہ کیا گیا تھا، ایک شعر جو صاحبِ کتاب نے سرِورق پہ لکھا تھا اب تک یاد ہے
                      ؎   میرے ملک کی سیاست کا حال مت پوچھ
                           طوائف گھری  ہے  تماش بینوں  میں
اور یقین جانئے، آجکل یہ طوائف بڑی مشکل میں ہے کیونکہ مجرے کا منطقی انجام یعنی الیکشن قریب ہیں اور ہر تماش بین طوائف کو اپنی جانب متوجہ کرنیکے لیئے ہر ممکن اقدام کررہا ہے، پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے تاکہ دی اینڈ میں وہ  ہیرؤین کو اپنی بانہوں میں سمیٹے حجلہِ عروسی یعنی وزیراعظم ہاوس  کی جانب مسکراتا ہوا جائے اور  اپنے وقت کا ‘بہترین استعمال’ کرے! یہ وہی تماش بین ہیں جو رات گزارنے کے بعد صبح کو طوائف کی شکل تک نہیں پہچانتے، مگر طوائف کے نصیب میں ہر رات انہی میں سے کوئی نہ کوئی ہوتا ہے۔ طوائف عوام، رات ‘جمہوری دور’ تماش بین سیاستدان۔ اس وقت ملکی سیاست ایک ٹاپ سیلنگ سٹوری بنی ہوئی ہے، ہٹ موویز والے تمام تر مصالحہ جات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ مشرف کی واپسی سے لیکر طاہر القادری کی روپوشی، عمران خان صاحب کی لاہور فتح کرنیکی ڈینگیں مار کر وہاں سے کاغذات ہی نہ جمع کروانے سے لیکر میرا کے الیکشن لڑنے کے اعلان تک، نجم سیٹھی کی وزارتِ اعلیٰ سے لیکر  کاغذاتِ نامزدگی کی نامنظوریوں تک،  شاہ محمود صاحب کے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات جمع کروانا اور میاں برادران کی نااہلی سے لیکر سیاسی شہادت کی پاسیبلٹی سے گھبرا ئے بلاول بھٹو زرداری کا دبئی سے الیکشن کیمپین کو لیڈ کرنا، الطاف بھائی کا وہی "رُسی رن” ورگہ وکھرا موقف اور سیاسی مبصرین کی الیکشن کے انعقاد پر تشویش اور حد سے تجاوز کرتی ریٹرننگ آفسرز کی تماش بینیاں، تمام مصالحے بدرجہ اتم موجود، کب کون ذائقہ دے جائے کہہ نئیں سکتے۔
پوسٹ کا ٹائٹل تبدیلی ہے، یاد رہے یہ عمران خان صاحب والی سونامی-تبدیلی نہیں بلکہ "اصلی” تبدیلی ہے۔ جیسے موسم کی تبدیلی، آب و ہوا کی تبدیلی وغیرہ وغیرہ۔ خان صاحب نئے چہروں والی تبدیلی کی جو بات کرتے ہیں اس سیاسی تبدیلی کے بارے تو مرحوم بزرگ سیاستدان نوابزادہ نصراللہ خان صاحب کیا خوب فرما گئے ہیں کہ نئے چہرے صرف فلموں میں جچتے ہیں، دیکھئے نا اتنے خان صاحب کے  چانسسز نہیں جتنی انکی فلم ‘کپتان’ کے ہٹ ہونے کے چانسسز ہیں۔ عمران خان کے سیاست میں آنے سے البتہ ایک عملی تبدیلی ضرور آئی، بالکل ویسی جیسے کسی نکموں کی کلاس میں کوئی خوبرو دوشیزہ آجائے تو "امپریشن” جمانے کیلئے چند سرپھرے کوشش ضرور کرتے ہیں ‘ٹاپ’ کرنے کی۔
جب سے خان صاحب کا سونامی پارٹ ون آیا ملکی سیاست میں واقعی ہلچل مچ گئی۔ اس وقت ہم انگریزی میں ڈینگ مارا کرتے تھے سونامی پارٹ ٹو تک ایک تبدیلی تو آئی کہ ہم اردو میں چولانے لگے۔ مجھے نئیں پتہ کس سیاسی جماعت کے کیا اغراض و مقاصد ہیں، میں تو صرف ان شعبدہ بازوں کے بیانات سے محظوظ ہوتا ہوں اور اردگرد لوگوں کا ردعمل دیکھتا ہوں۔ سونامی کا نام اس لیئے لیا کہ پہلے تو سب ٹھیک چل رہا تھا مگر خان صاحب نے آکر سیاسی منظر نامہ تھوڑا اینٹرٹینیگ بنادیا۔ ورنہ کہیں شیر کی دھاڑ تھی، سائیکل تیار تھی، لوٹوں کی بھر مار تھی،  پتنگ کی پکار تھی  مگر پھر بھی ‘ایک زرداری سب پہ بھاری’ تھا۔
پچھلے سال تک کافی دھواں دار بیٹنگ کرتے رہے، مگر اب لگ رہا ہے شاید اچھا دی-اینڈ نہ کرپائیں، کافی وکٹیں گنوا چکے ہیں اور اپنی غلطی سے کئی کھلاڑی رن آؤٹ بھی کروا چکے، اب دیکھنا یہ ہے کہ رہی سہی ٹیم کیساتھ کلین سویپ کرتے ہیں یا کلین بولڈ ہوتے ہیں ۔ پہلے دیگر سیاسی جماعتوں نے ‘تبدیلی’ کا توا لگایا اور اب عوام بھی کافی حد تک اس کارِ خیر میں شریک ہوگئی ہے۔ مثلاً خان صاحب کا وہ مشہور ڈائیلاگ ‘تبدیلی آ نہیں رہی، آچکی ہے’ کو پاکستان کی ‘یوتھ’ نے کافی بہتر انداز میں یوزا ہے، کلاس رومز، گلی محلے اور آفسز میں "وہ” کو ‘تبدیلی’ سے ریپلیس دیا گیا ہے اور اب یہی کہا جاتا ہے کہ "تبدیلی آگئی ہے، آؤ ‘انقلاب’ لائیں”۔
نعرہ اچھا ہے مگر اقوامِ عالم پر نظر دوڑائیں تو امریکی صدر اوبامہ بھی یہی نعرہ لیکر آئے تھے اور دنیا گواہ ہے کیسی تبدیلی آئی کہ لہریں بہریں ہوگئیں، بہر صورت ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور کسی ایسے کو حکمرانی ملے جو واقعی میں سیاست نہیں ریاست بچانے والا ہو۔ کافی عرصہ پہلے انگریزی میں الیکشن پراسس بارے کچھ گذارشات پیش کی تھیں، اور حیرت انگیز طور پر کچھ پر عمل ہوتا بھی دکھائی دے رہا ہے مگر وہ ‘دودھ میں مینگنیں’ ڈال کر!
Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged , , . Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s