قصہ ایک فلم کا


ہم چونکہ اپنے تئیں تھوڑے  تھوڑے پطرس بخاری ہیں اسلیئے ہمارے ساتھ اکثر و بیشتر ویسے ہی واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ سینما کا عشق تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا، ویسا ہی کھیل کل ہمارے ساتھ ہوا۔ ایک دوست کے طفیل  ‘رانگ نمبر’ کے پریمئیر شو کے پاس ملنے کی خبر آئی تو ہم نے چچا غالبؔ کے فلسفے کے تحت سوچا ‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے’۔
وقتِ مقررہ سے تھوڑا پہلے پہنچ گئے تو پتہ چلا جنہوں نے ‘اندر’ کرانا ہے وہ نہیں پہنچے، یہاں وہاں ٹامک ٹوئیاں مارتے وقت گزارا پھر سینما گئے، کافی  پُرشکوہ  ماحول تھا، ہمارا حال انور مسعود کی اس نظم  ‘رحما  ان جنت’ والا ہوا  وا تھا، یہاں وہاں ایمان شکن  پریاں منڈلا رہی تھیں اور ہم رحمے کی طرح بس ادھر ادھر دیکھی جائیں۔ پھر فلم کی کاسٹ کی آمد ہوئی، ٹی وی پہ دیکھی شکلیں بل مشافہ دیکھیں تو خود کو سلیبرٹی سلیبرٹی محسوس کیا، ضمیر کو تو ہم سنبھال لیتے ہیں مگر  ایسے موقعوں کی طاق میں بیٹھا ہمارے اندر کا جنید جمشید فوراً جاگ جاتا ہے  اور تقدسِ رمضان وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات زیرِ بحث آگئے لیکن ماحول کی چکا چوند  اور نفسِ امارہ کی ملی جلی سازش سے ہمارے اندر کا عامر لیاقت جنید جمشید پہ غالبؔ آہی گیا۔ فلم شروع ہوا ہی چاہتی تھی کہ ہم نے اس شخص کی تلاش شروع کی جس نے ہمیں ہال کے ٹکٹس تھمانے تھے۔ باریش صاحب بڑی مشکل سے ملے اور ہمارے ساتھ چھپن چھپائی کھیلنی شروع کردی، ہم یہاں سے جائیں تو وہ وہاں کو نکل جائیں، خیر کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی لکا چھپی کے بعد جب ہم ان سے الوداعی سلام لینے لگے تو انہوں نے ٹکٹ تھما ہی دئیے۔ ہم فاتحانہ چال چلتے ہال میں داخل ہوئے تو فلم شروع ہوچکی تھی اور ہیروین (غالباً سوہا علی ابرو) ہیرو کے گرد منڈلاتے ہوئے انہیں بتا رہی تھیں کہ کنڈی لگ گئی دروازے کو، سمجھدار کو اشارہ کافی  وغیرہ وغیرہ۔
خیر، باقی ماندہ  فلم اچھی رہی، جاوید شیخ صاحب کا  اپنے فلمی بیٹے دانش تیمور کو طمانچہ ہمیں اپنے بچپن میں لے گیا جب انقلابی ولولوں کو تھپڑوں سے سینچا جاتا تھا۔ ٹیپیکل پاکستانی وِٹ اچھی لگی بعض جگہ تھوڑا اوور بھی کردیا، مثلاً بچے کے ختنے کو جتنی تفصیل سے دکھایا ، یا خودکش حملہ آور اور پولیس کی تضحیک وغیرہ ۔ ہیروین کی بھی باتوں باتوں میں "خامیاں” بتا ہی گئے ہیرو صاحب۔
ابھی تو شروعات ہیں، آگے چل کے یقیناً جنوئین سٹوریز اور آئیڈیاز آئینگے ابھی کیلئے کچھ یہاں کچھ وہاں سے جوڑ کر، تھوڑے کامیڈی سینز یہاں وہاں کے اٹھا کر ٹھیک ٹھاک ہی فلم بنا لی، اچھی مصالحہ فلموں والے تمام اجزا، آئیٹم نمبر، کامیڈی، ایکشن وغیرہ سب  شامل ہیں۔
پوری سٹوری سنانے کا نا فائدہ ہے نا آپ سنیں گے، ویسے بھی ہم نے تو مفت میں دیکھ لی آپ پیسے دے کر خریدیں گے تو یقیناً زیادہ اچھی لگے گی۔   ویسے "ان” کی فلموں کے مقابلے پہ آگئے ہیں ہم، میڈ اِن پاکستان کرپشن کے علاوہ جس بھی چیز پر بھی ہو ہمارے لیئے باعثِ فخر ہی ہوے ہے۔
IMG-20150714-WA0026  IMG-20150714-WA0022
Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

2 Responses to قصہ ایک فلم کا

  1. Jafar Hussain نے کہا:

    عمدہ لکھا ہے۔۔ ہلکا پھلکا۔۔۔ باقاعدگی سے لکھا کریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s