لوٹا


آپ ایمرجنسی میں کارِ ضروری سے خانہ تنہائی میں جائیں اور فارغ ہونے کے بعد آپکی مطمئن نظریں جس الہ دین کے چراغ نما مدھانی کو ڈھونڈتی ہے اس طلسماتی شہ کو لوٹا کہتے ہیں۔

لوٹا

تاریخِ انسانی میں پہئیے کے بعد اگر کوئی قابل ذکر اور انقلابی ایجاد ہوئی ہے تو وہ لوٹا ہی ہے۔ آپ تصور کریں اگر لوٹے نا ہوتے تو آج ہمیں یکسر مختلف دنیا دیکھنے کو ملتی، مگر ناقدری کا یہ عالم ہے کہ جابجا بکتے ہیں کوچہ و بازار میں ارزاں نرخوں پہ!

لوٹے کی تاریخ ڈائنوسارس کے زمانے کے فوراً بعد سے شروع ہوتی ہے۔ ڈائنوسارس کے ہاتھ اگر چھوٹے نا ہوتے اور انہیں حاجت کے بعد نارسائی کا شکوہ نا ہوتا تو شاید وہ خود ہی لوٹا ایجاد کر لیتے۔

خیر، لوٹے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ کسی بھی رنگ شکل مادے اور سائز کا ہوسکتا ہے مگر خامی یہ ہے کہ ایک بار لوٹا ہوگیا تو پھر نا بدلا جا سکتا ہے اور نا ہی بڑھ یا گھٹ سکتا ہے۔ غالبؔ کے مصرعہ کی طرح لوٹے کا پیام صلائے عام ہے یارانِ لوٹا دان کیلئے

؎          جب چاہو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لو مجھ کو

لوٹا اوپر سے جیسا بھی نیچے سے ہمیشہ گول رہتا ہے جسکی وجہ سے اسکاسٹانس ایک نہیں رہتا۔ گھومتا لڑھکتا پھرتا ہے۔ سب کو زعم ہوتا ہے کہ لوٹا اسکا ہے مگر لوٹا جس کو چُست اسکو مفت کے مصداق صرف صاحب خانہ یا صاحب غسلخانہ کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اسکی رفاقت ہمیشہ کم مدتی ہوتی ہے۔

لوٹے کا اصل مقصد دھیان بٹانا ہوتا ہے چونکہ اسکا پیندا چھوٹا ہوتا ہے اسی لئے ذرا سی ٹوٹی کھولنے پر یہ شور کرنا شروع کردیتا ہے اور اندر کی اصل شکست و ریخت کی بجائے باہر والوں کا دھیان صرف اسکے شور پہ رہتا ہے، جاننے والے جانتے ہیں کہ شور سے دھیان بٹانے ولی خوبی کے سامنے کیئے کرائے پہ پانی پھیرنا فقط ایک ثانوی فائدہ ہے۔  نیک لوگ وضو کیلئے بھی لوٹا استعمال کرتے ہیں۔ نماز پڑھی کس نے دیکھی مگر وضو والا لوٹا سب دیکھتے ہیں۔ مندرجہ بالا خصوصیات کی وجہ سے لوٹے کی میدانِ سیاست میں بھی کافی مانگ ہے۔ قرین قیاس ہے کہ تحریک (پرانا) پاکستان والے زمانے میں یہ لفظ پہلی مرتبہ سیاستدانوں کیلئے باقاعدہ طور اے استعمال کیا گیا، پھر لوگوں نے یہ لفظ شوقیہ استعمالنا شروع کردیا۔ مگر سیاست پہ بحث چونکہ ہمارا ٹاپک نہیں اور فی زمانہ ممنوعات و ممکنہ متروکات میں سے بھی ہے اسلئے ہم اس طرف نہیں جائینگے۔

لوٹے کی کم مائیگی یا کپیسٹی اسکا ڈرا بیک ہے۔ تھوڑی صفائی  اور رولا ڈال کر توجہ ہٹانے کیلئے تو یہ تیر بہدف نسخہ ہے مگر کام ودھ جائے تو ٹب یا بالٹی منگوانی پڑجاتی ہے جسکی اپنی قیمت ہوتی ہے۔ نیز  بڑے لیول کی لیکج کی صورت میں یہ فائدے کی بجائے نقصان دینے لگ جاتا ہے اور آپ کو چاروناچار باہر جانا پڑتا ہے۔ تھوڑے لکھے کو بوہتا جانیں۔

نوٹ: یہ تحریر محض ترویج علم و اصلائے عوام کیلئے لکھی گئی ہے کسی بھی سیاسی صورتحال یا حالیہ لیکج سے اسکا تعلق محض اتفاقیہ اور زبردستی  ہوگا اور ادارہ ہرگز ذمہ دار نا ہوگا۔

Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged , , . Bookmark the permalink.

3 Responses to لوٹا

  1. qalamnama نے کہا:

    آج کل لوٹوں کی بہار آئی ہوئی ہے جناب! وہ کیا شعر ہے ، کھلے جو پھول اتنے ۔۔۔ کہیں جگہ نہ ملی میرے آشیانے کو ۔۔۔ اس طرح کا کچھ ہے ۔۔۔ تو لوٹے ہی لوٹے ہیں۔ آپ کے کالم میں کچھ سیاسی لوٹوں کا بھی ذکر ہو ہی جاتا ۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s