خلیفہ کا شکوہ – افطار سپیشل


سوال کرنا فقیروں کو زیبا نہیں، خلافِ شان ہے۔
 بمشکل اڑھائی ہزار سال گزرے  ہوں گے وہ عبقری نادر روزگار کہ نام جس کا راسپوٹین تھا۔ اشرافیہ کی نارسائی بارے  اسنے کہا تھا  ،
پک گئیاں امبیاں،
راتاں ہوئیاں لمیاں
سٹوراں وچ ساڑ دتیاں ،
سانوں   نا           کلیاں
الحذر، الحذر۔یہ جوڑ جوڑ کر جو رکھتے ہیں سب ضائع جائے گا، کچھ نفع نہ دے گا۔  اپنے اعمال و اموال کا  حساب و جواب سب  کو دینا ہے۔ پچیس روزے ہونے کو آئے، اس فقیر کے ہونٹوں کی پپڑیاں جُڑی پڑی ہیں مگر کسی کو کیا مجال کہ جھوٹے منہ بھی افطاری کو پوچھا ہو۔اپنے یہاں نہ سہی ، شب بسری واسطے کسی پنج ستارہ ہوٹل ہوں میں  کٹیا ہی لے دی ہو کہ غریب آفاتِ زمانہ سے پرے،  غور و فکر کرسکے ،  دعائیں، التجائیں، مناجات کرسکے۔  ظاہراً انسان کیسا ہی خوش حال ہو دل میں مگر تمنا تو رکھتا ہے۔ یاوہ گوئی فقیر کی سرشت میں نہیں ورنہ دنیا دیکھتی سربازار می رقصم۔ عارف سے بہرحال ذکر کیا کہ  وہ شناسائے حالِ دل ہے  اور اسکا  میرا وہی "تو میرا حاجی بگویم ، من تیرا حاجی بگو” والا ناتا  ہے۔  عارف ٹھہرا صوفی منش بولا ‘ یہ سعادتیں مال و دولت سے نہیں، نصیبوں  سے ملتی ہیں۔ جنکے نصیب ہوتے ہیں وہی قرب پاتے ہیں، دعوتوں پہ بلاتے ہیں، عروج پاتے ہیں۔  ‘ پھر قائد مرحوم کا وہ مصرعہ پڑھا،
؎ کلامِ ناداں مردِ نرم و نازک پہ بے اثر
عارف  بہت بیبا بندہ ہے۔روز کی ایک مثال پکڑ لیتا ہے پھر جیسا بھی مسئلہ ہو اسی مثال پہ فٹ کرلیتا ہے:
؎ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس  تم کو عارفؔ سے صحبت نہیں رہی
بوجوہ طبیعت بہت بوجھل تھی مگر عارف کی بات نے دل میں گھر کرلیا۔ اور آنے لگے غیب سے مضامیں خیال میں۔بیچ شبِ سیاہ کے اٹھ بیٹھا اور تفکر کےسمندر میں غوطہ زن ہوا۔
کہاں ایک طرف وہ ذی شان، عالی مقام، رعب و دبدبہ اور کردار و گفتار کا غازی۔  دیارِ غیر  میں بھی  مسلسل فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ ہاتھ و حالات گرچہ اکثر تنگ ہی رہتا ہے۔ پھر بھی کیسی نظرِ التفات اس فقیر پہ وہ کرتے ہیں۔ دعائیں پاتے ہیں، بلائیں ٹلواتے ہیں۔ ابھی چند ہی روز ادھر،  غیر ملکی دورے سے لوٹے۔ احقر بھی بوٹ پاشی کو گیا۔  بعد از بوسہ بوٹ، بڑھ کے  کیسے تھام لیا تھا۔ دل نثار ہو ہو گیا ۔  سلوکہ تہبند زیبِ تن کیئے ہوئے   آرام کرسی پہ بیٹھے تھے۔ فوراً   سلوکے  کی جیب سے ایک تھیلی سی برآمد کرکے فقیر کو پیش کی اور نسبتاً قریب آکر بولے،” رمضان آرہا ہے” روزے انہی سے کھولنا۔ گو تعداد میں کم ہیں مگر اخلاص کے ترازو پہ بہت بھاری ۔جو دیکھا تو پاؤ بھر ایرانی کھجوریں شاپر میں جگمگا رہی   تھیں۔  اللہ اللہ، ایسے راست گو، ایسے کھرے لوگ۔  فقیر نے بلندی اقبال و پائیداریِ استدلال کی صدا دی اور الٹے پیر پلٹ آیا۔   شاعرہ نے ایک فقرے میں فقیر کا  مدعا تمام کردیا،
؎ جب بھی کہیں گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی ہے میرے ڈھول سپاہی کی
کپتان  کا گلہ کرنا  فقیر نے چھوڑ دیا ہے۔ جس دن  کپتان نے میرے ہاتھ سے بھنے ہوئے چنوں کا پیکٹ جھین  کھایا تھا، تب سے جان لیا، ان تلوں میں تیل نہیں۔
؎ جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیا کسی کا گلہ کرے کوئی

اور اک طرف وہ ہیں، جنہیں قارون کے خزانے عطا ہوئے ہیں۔ پیٹ میں گیس کی دوا بھی بلادِ غیریہ سے  جاکے لیتے ہیں۔ جن کے مرغن ڈکاروں سے اقتدار کے ایوان مہکتے ہیں۔کہنے کو  اقوامِ عالم میں انکا  طوطی بولتا ہے۔ مرسڈیز سے کم پہ سوار نہیں ہوتے۔ دن رات جن کے گھر دعوت کا سماں ہوتا ہے۔ دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں۔ ہزار ہا انکے گنجِ گراں مایہ سے فیض پاتے ہیں۔ اتنی مگر ان کو توفیق نہیں کہ ڈونگہ بھر بریانی مع لیگ پیس ۔  تھوڑی فرنی اور جامِ شیریں کے یخ بستہ جگ  روانہ ہی کردیتے۔ دعوتِ افطار ویسے بھی ثواب ہے۔ اور    حاجاتِ بدنی سے سیر ہو کہ احقر گر ہاتھ اٹھاتا تو کیا ان کے طولِ اقتدار واسطے دعا  نہ کرتا؟ اور کچھ نہیں چند سطریں ان کی دلجوئی کو ہی لکھ مارتا۔ مگر عارف نے سچ کہا تھا،   یہ سعادتیں مال و دولت سے نہیں، نصیبوں  سے ملتی ہیں۔ جنکے نصیب ہوتے ہیں وہی قرب پاتے ہیں۔

اب وہ نام کے اعلیٰ، بلادِ غیر میں اپنے ہی گھر میں دبکے بیٹھے ہیں، باہر نکلنے کا یارا نہیں۔یا للعجیب۔
سوال کرنا مگر  فقیروں کو زیبا نہیں، خلافِ شان ہے۔
Advertisements

About Abrar Qureshi

Hi, Abrar Qureshi here. I am an average human being, just that. Gotta say something? write back. Get in touch? here's my twitter ID, come & say hi :)
This entry was posted in بلاگ and tagged , , , . Bookmark the permalink.

4 Responses to خلیفہ کا شکوہ – افطار سپیشل

  1. سحرش خان نے کہا:

    هاهاهاها.. بہترین

  2. Atif نے کہا:

    مجھے افسوس ہورہا ہے کہ آج سے پہلے آپ کی تحریروں پر نظر کیوں نہ پڑی۔ بہت اعلیٰ جناب والا بہت اعلیٰ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s