جگ بیتیاں، ہڈ بیتیاں

اختر شیرانیؔ مرحوم نے تو موئے عشق کو کستے ہوئے کہا تھا:
؎ قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
اور یہاں ہم اس شعر کی عملی توجیح بنے بیٹھے ہیں۔ سانحہ تو یہ ہوا حادثے کے بعد، دل کے پھپھولے جس بلاگ پوسٹ پہ سہلائے وہ غموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راہیءعدم ہوا۔ ہم نے بھی صبر شکر کرلیا کہ چلو بھئی ہم کون سا فیض احمد فیضؔ ہیں جو قسم کھائی ہو کہ
؎ ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ایک تو کسی قسم کی رقم کا ہماری تحاریر سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا اور نہ ہی مستقبل قریب و دور میں ایسی کوئی امید نظر آتی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے بہت سے دکھ خود ساختہ نوعیت کے ہیں۔ مطلب اسکا یہ کہ اگر ہم نہ ہوتے تو وہ کرب و الم بھی شاید ظہور پذیر نہ ہوتے۔ اب کل کی بات ہی لے لیجئے، ہمیں بیٹھے بٹھائے شکریئے کا بخار چڑھا ہوا تھا اور بلاوجہ قلق ہو رہا تھا کہ ہم نے آج تک ملی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا اور جبکہ نعمتیں رخصت پہ ہیں تو ہم علامتِ حزن و ملال بنے ہوئے ہیں۔ وجہ تسمیہ بیان کریں تو فقط اتنی تھی کہ ہمارا خانسامہ چھٹی پہ گیا اور پھر چلا ہی گیا، فون کرکے پوچھا تو شانِ بے نیازی سے بولا ابھی میری منگنی کی تقریب چل رہی ہے کل پرسوں بتاؤں گا کہ واپس آنا ہے یا نہیں۔ خیر، ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے۔ پھر ہمارا روم میٹ دفتر سے گھر لوٹا تو بخار میں دھت۔ کھانا پکانا ہمیں اتنا ہی آتا ہے جتنی سردیوں میں گیس۔ گیس سے یاد آیا کہ پاکستان میں جہاں جہاں سردی آتی جارہی ہے گیس وہاں سے رخصت لیتی جارہی ہے۔ اگلے سیزن کسی منچلے نے ایسا گانا بنا ڈالنا ہے ‘میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ ہیٹروں سے ڈرتی ہے، بڑی گیس بنی پھرتی ہے ہمارے چولہوں سے لڑتی ہے’۔
خیر، میں آپ کو بتا رہا تھا کہ روم میٹ بخار میں دھت تھا اور کچن میں گندے برتن ایسے بکھرے پڑے تھے کہ فیضؔ مرحوم دیکھ لیتے تو کہتے،
؎ جابجا بکھرے ہوئے سنک و شیلف پہ برتن
سالنوں میں لتھڑے ہوئے چکنائی میں نہائے ہوئے
خیر، مرتے کیا نہ کرتے بلند عزم و حوصلے کیساتھ کچن میں گھسے اور کنفے برتنوں سے برسرِ پیکار ہونے لگے۔ گھمسان کا رن پڑا، اب یہ کہنا مشکل ہے کہ کچن ہمارے جانے سے پہلے زیادہ گندا تھا یا بعد میں ہوا، بہر صورت ہم نے برتن ایسے تہِ سکاچ برائٹ کیئے جیسے ہمارے اجداد کسی زمانے میں مخالفین کو تہِ تیغ کرتے۔ یہاں ہم برتنوں میں گھرے تھے اور وہاں ٹی وی لاؤنج سے اس خشک سردی میں بھی ‘رم جھم رم جھم پڑے پھوار’ کی اشتہا انگیز آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی، آپ میں سے جس جسے نے نرگس فخری کا اشتہار دیکھا ہے وہ اشتہا انگیز کا لطف پا سکیں گے۔ نرگس فخری بھی کیا خوب خاتون واقع ہوئی کہ تمام قوم کو ایک "پیج” پر اکٹھا کردیا، بقول شاعر
؎ بے خطر کود پڑی جنگ اخبار میں نرگس
محوِ خدوخال ہے غوغا کرتی عوام ابھی
آپ ذرا یہ اندوہ ناک منظر سوچیں تو سہی۔ کہ آپ یخ بستہ پانی سے چکنائی میں لت پت کولیاں اور پلیٹیں مانج رہے ہیں اور آپکا ذہن لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی جنگ اخبار پہ لگے اشتہار پہ ٹکا ہوا ہے۔ برتنوں کی ایسی ایسی چکنائی بھی اتری جو لگی ہی نہ تھی۔ خیر، قصہ مختصر، ہم نے برتن دھوئے گزشتہ روز کا بچا ہوا کھانا گرم کرکے کھایا اور دل مسوستے رہے کہ جب برتن دھلے دھلائے ملتے تھے ہم نے کبھی شکر نہ کیا، کھانا پکاپکایا ملتا تو نقص نکالتے آج سب خود سے کرنا پڑا تو کیسے احساس ہوا۔ تونہ تائب ہوکر سوگئے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ الحمدللہ ہمارے فلیٹ پر کبھی پانی کی قلت نہیں ہوئی۔ لیکن آج صبح ہم نے اٹھ کر حسبِ معمول جیسے ہی منہ ہاتھ دھونے کیلئے ٹوٹی کھولی تو ہوا کے جھونکوں نے ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں یکایک احساس ہوا کہ باقی شکرییئے تو رات کرلیئے تھے پانی کا ذکر ہی کوئی نہیں ہوا۔ یہ صرف ہمارا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے کہ جب تک سر پہ نہ پڑے ہم بہت سی چیزوں کو فار گرانٹڈ لیتے ہیں اور جب وہ نہیں ہوتیں تو پچتاتے ہیں۔ ہم نے تو ٹھان لی ہے اب کہ جب جیسے کی بنیاد پہ شکریئے کریں گے، آپ کا کیا ہوگا جنابِ عالی؟؟
Advertisements
شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

جاب انٹرویو

originally published here:
السلام علیکم!  سیانے کہتے ہیں کہ مَردوں کو نوکری اور بیوی ہمیشہ دوسروں کی اچھی لگتی ہے۔ اول الذکر کے بارے تو  از  قہرو مہر ِ زوجہ کبھی سوچنے کی جرات نہیں ہوئی البتہ تحقیق و تجسس کی ساری انرجی موخر الذکر  پہ ہی صرف ہوتی ہے۔  مزید سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ فی زمانہ رشتہ طے کرنا اور نوکری لینا ایک سے مشکل کام ہیں، ہم ان سے کبھی سہمت نا ہوتے اگر ایسا ایک واقعہ خود کیساتھ نہ پیش آیا ہوتا۔کچھ عرصہ قبل لنکڈ ان نامی ویب سائیٹ سے ایک ریکروٹر نے پروفائل شارٹ لسٹ کرکے ایک کمپنی میں بھجوائی، ہمیں اس کمپنی بارے زیادہ معلوم نا تھا مگر تجسس کے کیڑے نے کہا انٹرویو ضرور دینا چاہیئے غالبؔ چچا نے ایسے موقعوں کیلئے ہی تو کہا تھا  ‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے’۔ خیر، کچھ روز گزرے اور انٹرویو کی کال آگئی، ہم  مقررہ وقت سے پانچ سات منٹ پہلے پہنچ گئے، پہلا ٹاکرا ریسپشن پہ بیٹھے ایک نسبتاً باباجی سے ہوا، آجکل رسیپشن پہ بابے بٹھانے کا کون سا زمانہ ہے، کوئی خوبصورت دوشیزہ ہو تاکہ انٹرویو تو دلجمعی سے دیا جاوے یا انٹرویو کا انتظار ہی خوش دلی سے کیا جائے۔

خیر، مرتے کیا نہ کرتے چار و ناچار بابا جی سے کہا انٹرویو دینے آئے ہیں بولے ابھی بیٹھو وہاں لاؤنج میں، لاؤنج کا اے سی نہیں چل رہا تھا سو عرض کی اے سی چلا دیں، بولے نہیں چل رہا، کہا اچھا وہ ایل سی ڈی جو لگی ہے وہی آن کردیں خبریں سن لیتا ہوں بولے کیبل نہیں چل رہی، عرض کیا ایچ آر میں کال تو کرکے دیکھیں بولے ایکسچینج نہیں چل رہی۔ جھنجھنا کے پوچھا باہر ہوا چل رہی ہے تو وہاں چلا جاؤں بولے وہی تو بس چل رہی ہے۔ خیر، اللہ اللہ کرکے جن صاحب کو ملنے آئے تھے انکا دیدار ہوا، لفٹ حسبِ آفس نہیں چل رہی تھی۔      تین فلورز پہ مختلف آفسز اور ہرڈل رومز سے ہوتے ہوئے بالآخر ہم ایک راہداری نما ورک سٹیشن پہ بیٹھ کر اگلی منزل کا انتظار کرنے لگے اور سچویشن کے حساب سے   زیرِ لب گنگنانے لگے  ‘بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، کوئی ہمیں اٹھائے کیوں’ اور بالآخر اٹھا کے کھڑکی کے سامنے والی صوفی پر بٹھا دئیے گئے۔ جن صاحب نے  انٹرویو لینا تھا وہ کہیں مصروف تھے اور ہم سوچنے لگے کے ایسے ہی جب کسی غریب کے گھر رشتہ دیکھنے آتے ہیں تو مہمانوں کو کھجل کرتے ہیں کبھی اس کمرے میں بٹھاؤ کبھی اس کمرے میں کہ اسکا پنکھا ٹھیک نہیں اسکا بلب جھپکے مارتا ہے وغیرہ۔

پہلے ایک صاحب آئے انہوں نے راہداری میں انٹرویو لیا جس کے سوالات زیادہ تر آپریشنل نوعیت کے تھے، پھر وہ ہمیں دوبارہ رسیپشن پہ بیٹھنے کا کہہ کر کسی اور صاحب کو بلانے چلے گئے، اب کی بار ایک کانفرنس روم میں ایچ آر کی مینجر نے تنخواہ، کس کس کمپنی میں کام کیا، کیوں چھوڑی یہاں کیوں آنا چاہے ٹائپ سوالات کا انٹرویو کیا، پھر ہمیں دوبارہ رسیپشن پہ بٹھا کر ڈپارٹمنٹ ہیڈ کو لینے چل دیں، ان صاحب نے صد شکر اپنے کمرے میں بٹھا کر چائے پوچھی اور یہاں کیوں آنا چاہتے ہو، موجودہ کمپنی میں کیا مسئلہ ہے، تنخواہ اتنی کیوں مانگ رہے ہو، اچھا اگر رکھ لیں تو مہینے کا نوٹس کیوں ہے، گاڑی چھوٹی کیوں ہے اور ایسے ہی کئی دیگر ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے ۔ الغرض جیسے غریبوں کے گھر بر دکھائی کو لڑکا آجائے تو کہتے ہیں نا دبئی والے چچا آئے ہوئے ہیں ان سے بھی مل لیں اور سیالکوٹ والی پھپھو بھی اتفاقاً آج آئی ہوئی ہیں انہیں بلا کر لاتے ہیں وہ بھی دیکھ لیں، لڑکی کا بھائی پندرہ بیس منٹ تک آئیگا تب تک چائے پی لیں اور پھر انٹرویو لیتے ہیں لڑکا کرتا کیا ہے، کماتا کتنا ہے بہن بھائی کتنے ہیں وغیرہ وغیرہ اور ہفتہ بھر بعد کال کرکے "آپ ہمیں بالکل پسند نہیں آئے” بالکل ویسے ہی ان کمپنی والوں نے دو دن بلا کے کمپنی نے ہر اس افسر جو انٹرویو لینے کے قابل تھا ہمارا انٹرویو دلوایا، تنخواہ تجربے سے لیکر ہر قسم کی معلومات حاصل کیں اور ایک بے رخ سے ای میل کردی کہ "آپ ہمیں پسند نہیں آئے”    اور ہم اپنے حسرتوں پہ آنسو بہاتے بلاگ لکھنے بیٹھ گئے۔

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , | 2 تبصرے

قصہ ایک فلم کا

ہم چونکہ اپنے تئیں تھوڑے  تھوڑے پطرس بخاری ہیں اسلیئے ہمارے ساتھ اکثر و بیشتر ویسے ہی واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ سینما کا عشق تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا، ویسا ہی کھیل کل ہمارے ساتھ ہوا۔ ایک دوست کے طفیل  ‘رانگ نمبر’ کے پریمئیر شو کے پاس ملنے کی خبر آئی تو ہم نے چچا غالبؔ کے فلسفے کے تحت سوچا ‘مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے’۔
وقتِ مقررہ سے تھوڑا پہلے پہنچ گئے تو پتہ چلا جنہوں نے ‘اندر’ کرانا ہے وہ نہیں پہنچے، یہاں وہاں ٹامک ٹوئیاں مارتے وقت گزارا پھر سینما گئے، کافی  پُرشکوہ  ماحول تھا، ہمارا حال انور مسعود کی اس نظم  ‘رحما  ان جنت’ والا ہوا  وا تھا، یہاں وہاں ایمان شکن  پریاں منڈلا رہی تھیں اور ہم رحمے کی طرح بس ادھر ادھر دیکھی جائیں۔ پھر فلم کی کاسٹ کی آمد ہوئی، ٹی وی پہ دیکھی شکلیں بل مشافہ دیکھیں تو خود کو سلیبرٹی سلیبرٹی محسوس کیا، ضمیر کو تو ہم سنبھال لیتے ہیں مگر  ایسے موقعوں کی طاق میں بیٹھا ہمارے اندر کا جنید جمشید فوراً جاگ جاتا ہے  اور تقدسِ رمضان وغیرہ وغیرہ جیسے موضوعات زیرِ بحث آگئے لیکن ماحول کی چکا چوند  اور نفسِ امارہ کی ملی جلی سازش سے ہمارے اندر کا عامر لیاقت جنید جمشید پہ غالبؔ آہی گیا۔ فلم شروع ہوا ہی چاہتی تھی کہ ہم نے اس شخص کی تلاش شروع کی جس نے ہمیں ہال کے ٹکٹس تھمانے تھے۔ باریش صاحب بڑی مشکل سے ملے اور ہمارے ساتھ چھپن چھپائی کھیلنی شروع کردی، ہم یہاں سے جائیں تو وہ وہاں کو نکل جائیں، خیر کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی لکا چھپی کے بعد جب ہم ان سے الوداعی سلام لینے لگے تو انہوں نے ٹکٹ تھما ہی دئیے۔ ہم فاتحانہ چال چلتے ہال میں داخل ہوئے تو فلم شروع ہوچکی تھی اور ہیروین (غالباً سوہا علی ابرو) ہیرو کے گرد منڈلاتے ہوئے انہیں بتا رہی تھیں کہ کنڈی لگ گئی دروازے کو، سمجھدار کو اشارہ کافی  وغیرہ وغیرہ۔
خیر، باقی ماندہ  فلم اچھی رہی، جاوید شیخ صاحب کا  اپنے فلمی بیٹے دانش تیمور کو طمانچہ ہمیں اپنے بچپن میں لے گیا جب انقلابی ولولوں کو تھپڑوں سے سینچا جاتا تھا۔ ٹیپیکل پاکستانی وِٹ اچھی لگی بعض جگہ تھوڑا اوور بھی کردیا، مثلاً بچے کے ختنے کو جتنی تفصیل سے دکھایا ، یا خودکش حملہ آور اور پولیس کی تضحیک وغیرہ ۔ ہیروین کی بھی باتوں باتوں میں "خامیاں” بتا ہی گئے ہیرو صاحب۔
ابھی تو شروعات ہیں، آگے چل کے یقیناً جنوئین سٹوریز اور آئیڈیاز آئینگے ابھی کیلئے کچھ یہاں کچھ وہاں سے جوڑ کر، تھوڑے کامیڈی سینز یہاں وہاں کے اٹھا کر ٹھیک ٹھاک ہی فلم بنا لی، اچھی مصالحہ فلموں والے تمام اجزا، آئیٹم نمبر، کامیڈی، ایکشن وغیرہ سب  شامل ہیں۔
پوری سٹوری سنانے کا نا فائدہ ہے نا آپ سنیں گے، ویسے بھی ہم نے تو مفت میں دیکھ لی آپ پیسے دے کر خریدیں گے تو یقیناً زیادہ اچھی لگے گی۔   ویسے "ان” کی فلموں کے مقابلے پہ آگئے ہیں ہم، میڈ اِن پاکستان کرپشن کے علاوہ جس بھی چیز پر بھی ہو ہمارے لیئے باعثِ فخر ہی ہوے ہے۔
IMG-20150714-WA0026  IMG-20150714-WA0022
شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , , | 2 تبصرے

تزکِ نیازی – آٹو بائیوگرافی آف دا کنگ خان

Originally Published on PK Politics

ضروری نوٹ:  اس تزک کا انگریزی ترجمہ بنام "آٹو بائیوگرافی آف دا کنگ خان” بہت جلد نیویارک ٹائمز میں شائع کیا جائے گا

پیش لفظ:

آجکل دوسروں کے کارنامے اپنے سر لینے کا رواج عام اور نوسرباز ڈس انفارمیشن پھیلا کر عوام کو اصل حقائق سے دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں  جیسے انفراسٹرکچر کی بنیاد مہاتما نے جی ٹی روڈ کی تعمیر سے رکھی جس کا کریڈٹ آجکل میاں صاحب بڑی ڈھٹائی سے موٹروے کے نام پر لیتے ہیں۔ جعلسازی کی صنعت کی روک تھام ، برائے اصلاحِ ریکارڈ و اطلاعِ عوام، مہاتما نے بقلم خود  حیاتِ عظیم سے پردہ ہٹایا ہے، لکھنے والے پینل میں شامل ہیں جناب قیامت مسعود، مباشرت لقا، حسن ایثار، خلیفہ جی اور شیکسپئرِ جنوبی پنجاب جناب کلاسرہ کروڑوی ساب۔ کارنامے چونکہ طویل ہیں اور کئی جلدوں پہ مشتمل ہیں اس لیئے عوام کی آسانی کی خاطر چیدہ چیدہ واقعات بمعہ شرح رقم کردی گئی تاکہ سند رہے اور کبھی کام نا آسکے۔

آغاز:

"ماہِ الیکشن سنہ2013 میں عمرِ عزیز کے 62  ویں سال میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ۔”

ضلع پیدائش میانوالی تھا مگر بڑے مقصداور مظلوم عوام کی خاطر سب چھوڑچھاڑ لاہور آگئے۔ پڑھائی سے خاص شغف نہیں تھا مگر عوامی لیڈر ان پڑھ ہو نہیں سکتا، کرکٹ اور چند ایک دیگر کھیلوں سے بچپن سے ہی خصوصی لگاؤ تھا، محلے میں میری کرکٹ اور دیگر صلاحیتیں دیکھتے لوگ کہتے تھے کہ یہ ایک دن کپتان بنے گا۔ خیر وقت کا پہیہ چلتا رہا میری کرکٹ، سیاست اور عاشقی مشعوقی محلے سے نکل کر شہر، ملک اور دنیا بھر تک پہنچی. میں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کی بجائے کاؤنٹی اپنا لی اور گلی کی بجائے انٹرنیشنل افیئرز۔میں بچپن سے ہی سٹار تھا، میری بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ہی مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی والوں نے داخلہ دے دیا۔  یوں ایچیسن کالج سے جان چھوٹی، ایچیسن کا زندگی پہ عجیب اثر پڑا، کسے معلوم تھا کہ نقلی بالوں والا اصلی چوہدری کل کو وزیرِ داخلہ اور میرا سیاسی حریف بنے گا، ایسے ہی اور بہت سے کن ٹٹے تھے جنہیں کبھی میں نے لفٹایا نہیں آج میری برابری کرتے پھرتے ہیں۔ ایسے ایسے نابغے میرٹ کی چھاننی سے نکلے کے بے اختیا ر میرٹ کے قتل کا جی چاہنے لگا ہے۔

دورِ آکسفورڈی و تحریکِ پاکستان

جیسا کے گزشتہ باب میں بیان ہوا کہ میری بے پناہ قائدانہ اور فائدانہ صلاحیتوں کے پیشِ نظرآکسفورڈ میں داخلہ مل گیا، یہ وہ زمانہ تھا جب قائدِ اعظم کانگریس سے بددل ہوکر لندن آئے ہوئے تھے، اقبال کی تحریک پر میں نے محمد علی جناح کوحکماً واپس انڈیا بھیجا۔ میں چاہتا تو اسی وقت ملکی باگ دوڑ سنبھال کر ڈائریکٹلی نیا پاکستان ہی بنا دیتا لیکن پھر لیڈر کا وژن سامنے تھا کہ عمران اگر اس نوجوان کو آج موقع نا دیا تو کل کو بلونگڑے  تمھیں کس سے زیادہ عظیم ثابت کریں گے۔ جناح بھی میرے معتقد رہے تحریکِ پاکستان دراصل تحریکِ انصاف سے ہی متاثر ہوکر شروع ہوئی، دھاندلی والی بات پر وہ میرے دستِ راست بنتے اگر زندگی وفا کرتی۔ نام و نمود سے بندے کی طبیعت اکتاتی ہے ورنہ ضرور بتا دیتا کہ چودہ نکات، سول نافرمانی  اسی ناچیز کی ذہنی کاوشیں تھیں۔

تھوڑا عرصہ جناح کو آبزرو کیا اور جان لیا کہ یہ لڑکا جوشیلا ہے جو چاہتا ہے کرلے گا اسے اپنے حال پہ چھوڑ دو اور کرکٹ کو اپنا لو، یہ ہوتا ہے لیڈر یہ ہوتا ہے وژن۔

قیامِ انگلستان:

آکسفورڈ کیلئے گھر سے نکلتے وقت انسٹرکشنز ملی تھیں کہ بیٹا  فرنگیوں کے دیس سے خالی ہاتھ نہ آنا، پہلےورلڈ  کپ بعد میں بیگم لے کر آیا یہ ہوتی ہے فرمابرداری۔ دیگر واقعات محض اوراقِ پریشاں  ہے بس حبیب جالبؔ نے جیسے کہا

؎ یہ اعجاز ہے حسنِ آوارگی کا

  جہاں گئے داستاں چھوڑ آئے

قیامِ انگلستان کے دوران شاعری سے شغف ہوا، میں تو پہلے ہی بے پناہ مشہور تھا سو اقبالؔ نامی اک نوجوان جسے پہلے اپنے خواب بھی سناتا تھا ، کو بھیجتا رہا کہ اپنے نام سے چھپوا کے مشہور ہوجائےبعد ازاں فیض احمد فیضؔ کو بھی اپنی مزاحمتی نظمیں بھیجتا رہا، عجیب بات ہے کے دونوں نوجوانوں کی فوتگی کے بعد شاعری کا شوق یکسر ختم ہوگیا۔ پاکستان بننے کے بعد زیادہ تر کرکٹ اور آنکھ مچولی کھیلی۔ کپ، بیگم اور ڈگری کے ساتھ وطن لوٹا ۔

تحریکِ نیا پاکستان:

کرکٹ سے فراغت کے بعد ہسپتال بنایا، اسکے بعد تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے پاکستان کی بنیادیں رکھنے کی کوشش کی، کسی نے ساتھ نا دیا لیڈا 15-16 سال کھجل ہوتا رہا، پھر ایک نورانی بابا پاشا سرکار ملے اور موری نیئا پار لگی، انقلاب کی راہیں روشن ہونے لگیں لیڈر قربانی کے بغیر نہیں بنتا سو لفٹر سے گرا، اور کچھ زیادہ ہی گر گیا۔ قوم فتوحات اور قربانیوں کو فراموش کرنے لگی سو دھرنے کی صورت غبارے میں ہوا بننے کی ٹھانی۔  مصداق اس سی گریڈ مثال کے،زمین ملی بنجر دوست ملے کنجر، مجھے پارٹی کے امور چلانے واسطے فرشتوں نے ایسے ایسے انسان مہیا کیئے کہ خدا کی پناہ، انہیں تو جنت میں بھیج دو وہاں بھی نقص نکال آئیں گے، کوئی تعلیمی طور پہ ذلیل کرواتا ہے، کوئی بیلٹ بکس اٹھا لے جاتا ہے، کسی کو اپنے جہاز کا زعم ہے کوئی اس غم میں خود جہاز ہوا پھرتا ہے۔ کسی کی اپنی پیری فقیری کی دکان چلتی ہے تو بی بی مزاری  میری سمجھ سے باہر ہے، یہ وہ پالتو ہے جو سال میں ایک بار ضرور مالک کو کاٹتا ہے۔ ورک جیسے با صلاحیت اور مبشر جیسے با ضمیر لوگ بھی مل تو گئے مگر پھر بھی،

؎ اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا

میرا دھرنا وہاں ٹوٹا جہاں پانی گرم تھا

دھاندلی اور دھرنہ:

نیا پاکستان مصالحہ مووی کی طرح بنانے کی کوشش کی تھی جس میں تمام مصالحہ جات رکھے مگر اللہ غارت کرے اس نورے کو، بڑی قسمت والا ہے جو مجھ سے بچ گیا۔ باقی گندے انڈے  میرے بستے میں تھےمیرے جلسے میں باغی باغی کے نعرے لگا کر میری ہی  واٹ لگا گیا، ان سے اچھا مشرف تھا، وزیرِاعظم بنا رہا تھا، ہک ہا، کیا وقت تھا۔ دھاندلی اور دھرنے کا وہی مرغی اور انڈے والا حساب ہےکہ کون پہلے آیا،  لوگ دھرنے کو میرے سیاسی کیرئیر کا عروج بتاتے ہیں اور سیانے میری سیاسی موت، خیر جو بھی ہو، لیڈر نہ ڈرتا ہے نہ ہارتا ہے۔ اتنے دن تو "شعلے” بھی نہیں چلی جتنے دن میرا  آئٹم چل گیا، اچھے پیسے مل گئے اب اس عمر میں کمائی مشکل ہوگئی ہے۔ویسے بھی وہ کیا بھلا سا کہا تھا اک شاعر نے

؎                                                  نہیں تیرا نشیمن بنی گالا کے صوفوں پر

                                                     تو لیڈر ہے چڑھا رہ کنٹینر کے زینوں پر

 دھرنے کی کرامتیں دیکھیں سوشل میڈیا پہ میرا راج ہے، اینکرز میرے اپنے، جہاز مجھے مل گیا، روبوٹس کی ایک فوج جو میرے یک جنبشِ لب پہ اپنے بزرگوں تک کو سرِ عام گالیاں دے دیتے ہیں، اور کیا چاہیئے، ہیں جی؟ یہ البتہ درست کہ آیا میں نورے کی ہمشیرہ والدہ ایک کرنے تھا اور میری اپنی خاندان کی تمام خواتین انہوں نے یکجا کردیں، اس نے

                    میرے ہی "بلے” سے میری دھلائی کی

                                                                   بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

دھاندلی تو اتنی ہوئی کہ الامان۔ ہم نے بلا اور شیر دو انتخابی نشان مانگے تھے جبکہ ہمیں صرف بلا دیا گیا جسکی وجہ سے ہمارے آدھے  ووٹ غلط کاسٹ ہوگئے، باقی مجھے اپنے مخالفین سے زیادہ دوستوں نے نقصان پہنچایا۔ ثبوتوں کے نام پر چولوں نے جتنی ردی اکٹھی کی تھی اسکو بیچ کر ہی جج کرلیتے۔ رہتی سہتی کسر میرے دھرنوی کزن مولوی طاہر نے پوری کردی، ایسا مردِ مومن ہے کس شان سے اپنی بات سے پھرتا ہے کہ مجھے بھی شرما دیتا ہے۔

اختتامیہ:

لوگ کہتے ہیں اتنا رولا ڈال کر دھرنا ختم کیوں کیا؟ بھئی ایک تو امپائر کی انگلی دغا دے گئی دوسرا غالبؔ کی بات ذرا دیر سے سمجھ لگی تھی

؎                     نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالبؔ

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

ہماری تحریک ویسے ہی پر امن تھی ہم نے مزید طعنہ و تشنیع کے بغیر "جادو کی جپھی” سے کام چلانے کی ٹھانی۔  سیاسی کیرئیر کے عروج پہ شادی کیوں کی؟  پہلے لوگ نشہ کرنے کا الزام لگاتے تھے،  بھئی کلا بندہ کی کرے، نہ بیوی نہ بچے نا کوئی اور خاطرخواہ کامیابی، ڈگری والی بات کے بعد سے عائلہ بھی دور دوررہتی تھی ، شیریں مزاری اور نعیم الحق کے ہوتے شکر کریں میں صمد بونڈ کے نشے پہ نہیں لگ گیا۔ 35 پنکچر، پپو، 1 ارب د درخت، 350 ڈیم، زندہ لاشیں، گرم پانی، گیزر،  اور یو ٹرن اسی نشے کے سبب کی ذہنی اختراعات ہیں۔ ایسے میں  سامنے عوام پیچھے ریحام، یا سامنے گرتا یا پیچھے، سو لیڈر نے فیصلہ کرلیا، بیوی ریڈی میڈ بچوں کیساتھ مل گئی اور اب گھر میں ہی انٹرویو بھی ہوجاتے ہیں

؎ ادھیڑ عمر میں اچھا لگتا ہے

جرابیں جو جرابوں میں ملیں

 نشے لی لت چُھٹ تو گئی لیکن گھر اور سیاست کی  کھپ دیکھ کر سوچتا ہوں وہی نشہ اچھا تھا۔ مئی 2013 سے جو چمونےوقتاً فوقتاً لڑتے تھےدھاندلی کمیشن والے ڈاکٹروں نے اچھا علاج کیا ہے، مگر  انقلابی چورن اور  تبدیلی چینی سے پرہیز بتائی ہے کہ انقلابی چمونے سوئے ہیں  ابھی مرے نہیں۔

"ماہِ الیکشن سنہ2013 میں عمرِ عزیز کے 62  ویں سال میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ۔”

Update:

شنید ہے کہ دوسری شادی کی ناکامی کے بعد خان ساب نے تیسری کھڑکا لی ہے – واللہ اعلم

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , | تبصرہ چھوڑیں

قومی المیہ

مملکتِ خدادا کا قومی المیہ یہ ہے کہ ہر ہفتے ایک نیا قومی المیہ ہوتا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ نہانے کا گرم پانی نہ ملے تو وہ بھی قومی المیہ بن جاتا ہے۔ باقی تمام دنیا میں ورثے ہوتے ہیں ہمارے المیے ہیں جو سینہ بہ سینہ آگے چلتے ہیں۔ خیر، بات المیہ جات کی ہورہی تھی اور جیسا کہ آجکل رواج ہے ہر مسئلے اور موضوع پر اپنی رائے دی جائے ورنہ لوگ نکما یا لفافہ سمجھیں گے اسی لیئے ہم بھی (اپنے خیال میں) مشہور مشہور المیہ جات کو ذیل میں درج کیئے دیتے ہیں۔

نوٹ: نمبر صرف المیوں کا فرق رکھنے کے لیئے ہیں تمام احباب اپنے اپنے حساب سے آرڈر تبدیل کرسکتے انکا

1۔ بے پناہ عقل:

پاکستانیوں میں بفضلِ خدا بے پناہ عقل ہے اور یہ ایک قومی المیہ ہے۔ 18-20 کروڑ کی آبادی میں آرام سے 15 کروڑ آل راؤنڈر ایکسپرٹ نکل آنے ہیں (باقی کے 3-4 کروڑ شیر خوار یا بیمار ہیں) جو کرکٹ سے لے کر دفاعی پالیسی، داخلی امور جیسے کہ عدل و انصاف سے لے کر رفاہِ عامہ تک پہ بے لاگ تبصرہ کرسکتے ہیں یہی نہیں بلکہ چکن قورمے سے لے کر ملکی بجٹ تک بنا لیتے ہیں۔ اور بمصداق دو ملاؤں میں مرغی حرام، ملک کا جینا حرام کیا ہوتا ہے۔  بات وہی بچے والی کہ پتہ کدو کا نہیں اور چلے ہیں قوم و ملت سنبھالنے۔ اس بے پناہ عقل والے المیے سے ایک اور المیہ جنم لیتا ہے جو کہ ہمارا قومی رویہ بھی ہے یعنی مفت مشورے۔ چونکہ مجھ میں بے پناہ عقل ہے اس لیئے میں ہر معاملے میں اپنا مفت مشورہ ٹھوکوں گا اور نہ ماننے والے کے خلاف ہوجاؤنگا کیونکہ میں ٹھیک ہوں اور آپ سب غلط ہیں۔

2- میں ٹھیک ہوں، آپ غلط ہیں (فتوے):

 پاکستان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر بندہ ٹھیک ہے اور اسکے حساب سے ہر بندہ غلط۔، ایسی نازک صورتحال میں بڑے سے بڑا ریاضی دان بھی چکرا جائے کہ کل 18 کروڑ نفوس ہیں ان میں سے اٹھارہ کروڑ ٹھیک ہیں اور اٹھارہ کروڑ غلط بھی ہیں۔ ہر چیز کے دو پہلو ہوسکتے ہیں ایک صحیح ایک غلط مگر پاکستان میں اسکے اتنے پہلو ہوتے ہیں جتنے لوگ کیونکہ میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں۔ اس المیئے کو باقی المیوں کی امی بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے بہت سے اور المیئے جنم لیتے ہیں۔ سیاسی اختلافات، فرقہ واریت، دہشتگردی وغیرہم۔ میاں بیوی کی تکرار ہو یا سیاسی میدان، کھیل کی بات ہو یا عالمی بحران، میں ٹھیک ہوں میری رائے مقدم ہے اور آپ غلط ہیں کیونکہ اگر میں نے آپ کی بات کو صحیح مان لیا تو مجھے لوگ آپ سے کمتر سمجھیں گے، میری ناک نیچی ہوگی ایگو ہرٹ ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

3- جذباتیات:

ہم بہت جذباتی ہیں۔ جذباتی پن ایک المیہ بن چکا ہے۔ ابھی ورلڈ کپ ہوا، قومی ٹیم کے لیئے ہمارے جذبات اور نیک و بد تمنائیں اوور بائے اوور بدل رہی تھیں۔ یہی ٹیم جیت جاتی تو سر پہ بٹھاتے ہار گئی ہے تو جوتیاں مارتے پھر رہے۔ آپ کسی بھی پارک میں دیکھ لیں فرطِ محبت سے ہر درخت پہ فلاں لووز فلاں لکھا ہوگا، اور وہی بندہ بعد از ترکِ تعلقات پبلک و مساجد کے ٹوائیلٹ میں اسی محبوب بارے قلمطراز نظر آئیگا اور قوم کی آسانی کی خاطر موبائل نمبر بھی لکھ آئیگا۔  یہی حال قومی سطح پہ ہے۔ قیام کی جاہ پہ سجدہ ریز ہوجائیں اور جھکنے والی جگہ پر قیام پذیر ہوجائیں۔

4- میڈیا / سوشل میڈیا:

شطرِ بے مہار پاکستانی میڈیا محلے کی وہ ماسی ہے جو شرط لگا کے طلاقیں کرواتی ہے۔ بلاوجہ کی سنسنی، سب سے پہلے کی دوڑ، بس ریٹنگ بڑھانے کی خاطر ایسے ایسوں کو قومی و عالمی سطح پر اپنی ذہنی غلاظت نکالنے کا موقع مل جاتا ہے جنہیں مہانوں کے آنے پر گھر والے کمرے میں بند کردیتے ہیں کہ نہ سامنے آئے گا نہ بولے گا۔ ناپختہ ذہنوں میں وسوسے اور تفریقوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ نا کوئی مکمل غلط ہے نا مکمل صحیح۔

میڈیا کا ذیلی المیہ سوشل میڈیا ہے۔ ٹی وی شوز سے حاصل کی گئی لیاقت کو لوگ اپنا اپنا تڑکا لگا کر سوشل میڈیا پہ پیشتے اور اس پر لڑتے ہیں۔ فتوے لگاتے ہیں۔

5- ہمارے دانشور

قوموں کے دانشور انکے مفکر اور معمار ہوتے ہیں۔ ہم وہ بلڈنگ ہیں جسکی ہر اینٹ ایک ئے مستری نے اپنے انداز سے لگائی ہو۔ یہاں جس کو چست اس کو مفت کی طرح جو میسر ہے سو دانشور ہے۔ جو اول فول بکے گا، دوسروں میں کیڑے نکالے گا، پرکھوں بزرگوں کے لتے لے گا، باہر والوں کی مثالیں دیگا وہی دانشور ہوگا۔ ہماری قوم کی تنزلی کی واحد ترین وجہ ہمارے سو کالڈ دانشور ہیں۔ شلوار میں نالا خود سے ڈالا نہیں جاتا مگر ٹی وی پہ یا کالم کے ذریعے دنیا جہاں کا علم بکھیرتے پائے جاتے ہیں، جس موضوع پہ بولنا ہو اسی کے پی ایچ ڈی ہوجاتے ہیں۔ حسن نثار جیسے لوگ جو مفکر پاکستان کو عام ایورج شاعر کہتے ہیں جس قوم کے دانشور ہونگے وہ قوم پست ہی ہوگی۔

ہم میں تفرقہ ڈالنے، وسوسے پھیلانے بدظن کرنے اور اس جیسے اور بہت سے کارنامے ان دانشوروں کے سر ہیں۔

6- پھدو کھاتا

لاسٹ بٹ ناٹ دا لیسٹ۔ یہ لفظ تھوڑا غیر پارلیمانی ہے مگر دھرنوں زمانے میں قابلِ قبول ہے۔ یہ تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ وہ جیسے کہتے ہیں نا انگریزی دا "دی” تے پنجابی دا "داا” جتھے لگے اوتھے لا، تو پاکستان میں بھی جسکا "دا” لگا ہوا ہے وہ موج میں ہے۔ میرٹ کا قتل، کرپشن، اقربا پروری، نا اہلی، منافقت وغیرہم جیسی کونپلیں اسی جڑ سے پھوٹتی ہیں اور اب ماشاءاللہ یہ تن آور درخت بن چکا ہے جس پہ فرقہ واریت، دہشت گردی، عدم برداشت جیسے پھل لگ رہے ہیں۔

7- لبرلز اور منافقت

پاکستان میں یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کا سنونم ہیں۔ ہمارے دیسی لبرلز منافقت کی چلتی مثالیں ہیں، جو کسر بھول چوک میں دانشوروں سے رہ جائے وہ بھی پوری کرتے ہیں اور انکے چھوڑے شگوفوں پہ جشنِ بہاراں بھی منعقد کرتے ہیں۔

صاحبو، یہ سب تو نہیں مگر ان المیوں میں سے کچھ ہیں جو ارضِ مقدس کو درپیش ہیں۔ ان سے کوئی لیڈر یا کوئی حکومت نہیں نمٹ سکتی یہ ہم سب مل کر کرسکتے ہیں۔ یہ حل ہوگئے تو باقی مسائل جن کا سب رونا روتے ہیں اپنے آپ حل ہوجانے۔ اللہ مغفرت کرے علامہ اقبال صاحب کی ہر موقع کیلئے موضوں شعر کہہ گئے جیسے اس بلاگ کے اختتام کیلئے:

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا                              ؎

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ | 1 تبصرہ

شادی اور محبت

پوچھا شادی اور پسند کی شادی میں کیا فرق ہے۔ کہا، چھت سے خود چھلانگ لگادو یا کوئی دھکا دے دے، وہی فرق ہے حالانکہ دونوں صورتوں میں انجام ایک سا ہوتا ہے بس الزام فرق لگتا ہے۔ دھکا دینے والی کہانیاں زیادہ تر بے مزہ اور ایک سی ہوتی ہیں، کسی نودریافت شدہ بزرگ رشتہ دار کے یہاں آپکا/کی ہم عمر رشتہ پروان چڑھ رہا ہوتا ہے جو ایسے اچانک آتا ہے جیسے بی اے کا رزلٹ اور گلے ایسے پڑتا ہے جیسے غریب پہ پولیس کیس، کہ جائے مفر نہیں رہتی کوئی۔ البتہ خود چھلانگ لگانے والے واقعات عوام اور بالخصوص نوجوان نسل میں خاصے مقبول ہوتے ہیں،اخبارات بھری پڑی ہیں ایسی کہانیوں سے۔ بیوقوف جن سے بھاگنا چاہیئے انکے ساتھ بھاگ کے شادی کرلیتے ہیں اور پھر عمر بھر بھگتتے ہیں۔ آپ فلموں کی مثال لے لیں۔ لو اسٹوری کا انجام وہیں ہوتا ہے جہاں شادی یا رشتہ طے پا جائے۔ اور بالفرض اگر شادی شدہ کپل ہو شروع سے تو یقین کرلیں کے پوری فلم میں ہیرو نے کھجل ہی ہونا ہے۔
پسند کی شادی دراصل ناکام محبت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں اکثر محبت کسی سے اور شادی کسی اور سے کا رواج ہے، ترتیب میں فرق آجائے تو انجام بہت ہی برا ہوتا ہے۔ محبت وہی کامیاب ہوتی ہے جس کا انجام شادی نہ ہو۔ ایسا اگر نہ ہوتا تو محبت کی لازوال داستان لیلیٰ مجنوں کی بجائے چاچے رشید اور مائی صغراں کی ہوتی جن کے شادی کے ابتدائی 17 سالوں میں 12 بچے ہوئے۔ مگر حقیقت کے برعکس مائی صغراں ہمیشہ "سانوں تے اجے سچا پیار ہی نئیں لبیا” کہہ کے روتی رہی۔ تفننِ طبع کے لیئے اس سچویشن کو انتقامِ محبت تو کہا جاسکتا ہے مگر محبت ہرگز نہیں۔ تو اس حساب سے ہیر رانجھا کی لو اسٹوری میں چاچا کیدو ولن نہیں بلکہ صحیح معنوں میں ہیرو اور دونوں لورز کا محسن تھا کہ جس نے شادی میں اپنی لکڑ کی ٹانگ اڑا کر بروقت محبت کا ٹریجک انجام ہونے سے بچا لیا اور فریقین کو رہتی دنیا تک امر کردیا۔ محسن نقوی نے بجا فرمایا تھا کہ "چلو مان لیتے ہیں، محبت شغل ہے بیکار لوگوں کا” آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں رانجھا، مجنوں مرزا فرہاد سبھی ویلے بے روزگار اور بے کار لوگ تھے۔ کسی کام جوگے ہوتے تو کوئی خالہ پھپھو گھر سے ہی رشتہ دے دیتیں۔
پسند کی شادی تک نوبت دو صورتوں میں آتی ہے۔ ایک اظہارِ محبت اور دوسرا اقرارِ محبت۔ شاید بہت سوں کو یہ دونوں الفاظ ایک ہی جیسے معلوم ہوں مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اظہارِ محبت تب ہوتا ہے جب کوئی شخص الاعلان کہہ دے کہ "ہاں میری ایدھے ہتھوں ای لخی اے” جبکہ اقرارِ محبت میں "امب چوپن لی گئی جان کے پھڑی گئی” والا معاملہ ہوتا ہے، شاعر نے الفاظ کا سہارا لے کر "جان کے پھڑی گئی” لکھ دیا حالانکہ کوئی بھی جان بوجھ کر نہیں پھڑا جاتا۔ اس پھڑن پھڑان میں رقیبانِ روسیا یا محلے کے ریٹائرڈ بابوں اور مایوں کا ہاتھ ہوتا ہے، پہلے بھی بیان کیا کہ ان سی سی آئی ڈی کس کی ہوتی ہے، وہ تو چال دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ "کہاں ہیں نگاہیں، کہاں ہیں نشانہ”۔

Tags:
محبت، شادی، لیلیٰ مجنوں، پسند کی شادی، لو سٹوری

شائع کردہ از بلاگ | 2 تبصرے

اوپڑ دی گڑ گڑ دی لالٹین

صبح آنکھ کھلی تو باوجود برسات ،  موسم بہار جیسی راحت پائی تو دل باغ باغ ہوگیا۔ کمرے کی لائٹ آن کی تو خلافِ معمول لائٹ آرہی تھی۔ٹی وی آن کیا تو جیو کے علاوہ تمام چینلز آرہے تھے اور ہر ایک چینل پر کوئی نہ کوئی خوشخبری چل رہی تھی، کہیں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تو کہیں ملک بھر میں لاکھوں سکولوں کا قیام، سرکاری ہسپتالوں میں لوگ بیرونِ ملک سے علاج کروانے آرہے تھے تو کہیں نئے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں داخلہ اور نوکری کے خواہشمندوں نے ایمبیسی کے سامنے طویل لائن لگائی ہوئی تھی۔ دارالحکومت  کے وسط میں ایک ٹوٹی ہوئی کشکول نصب کی جارہی تھی۔ دل ایسا خوش ہوا کہ میں ٹہلنے کو باہر نکل گیا، لوگ خوش خوش جارہے تھے، ہر بندے نے ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کررکھی تھی کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ سڑکیں شیشے کی مانند چمک رہی تھیں۔ لوگ تو لوگ چرند پرند بھی صفائی کا خیال کررہے تھے۔ سڑک کے دونوں جانب پھل دار درخت لگے تھے جن سے ہر خاص و عام بلاتخصیص پھل توڑ کے کھا سکتا تھا، قریب میں بہتی دودھ کی نہریں اور کہیں کہیں شہد کے تالاب۔ ایسے ایسے خوشنما پھول اور انکی اعلیٰ خوشبو مگر مجال ہے کوئی پھول توڑ لے۔ پولیس خال خال نظر آرہی تھی مگر بارعب تھی، تاجر سہمے سہمے تھے کہ کسی گاہک نے کنزیومر کورٹ میں شکایت کردی تو پھر خیر نہیں، ٹریفک کی پابندی ایسی تھی جیسے ویڈیو گیم کھیل رہے ہوں مجال ہے کوئی گاڑی لائن سے ایک انچ بھی ادھر کو سرک جائے۔عوام کے منتخب نمائندے سڑک کے اطراف ہاتھ باندھے مودب کھڑے تھے جیسے حکم کا انتظار کررہے ہوں، ابھی اس منظر کے سحر سے نکل نا پایا تھا سامنے سہراب سائیکل پر ایک جوشیلے نوجوان کو آتے دیکھ، غور کیا تو معلوم ہوا یہ خان صاحب تھے جو ملک میں انقلاب لانے کے بعد وزیراعظم بن چکے تھے اور پیچھے کیرئیر پہ صدرِ مملکت جناب شیخ الاسلام صاحب تشریف فرما تھے۔ اللہ اللہ ایسا ماحول کوئی سٹیٹس کو نہیں۔ ملک میں مکمل امن قائم ہوچکا تھا اور طالبان نے خاں صاحب کی امامت پہ اعتماد کا اظہار کرتے گرفتاری دیدی۔ آسمان سے فرشتے اتر رہے تھے اور پریاں پاکستان کا ویزہ لینے کو بیتاب ہورہی تھیں کہ اسی اثناء میں ایک بچہ سائیکل سے گرپڑا، عوامی نمائندوں اور عام شہریوں میں لڑائی شروع ہوگئی کہ اسکو ہسپتال کون لیکر جائیگا اور اسکے علاج معالجے اور دیکھ بھال کون کریگا۔ یہ منظر دیکھتے ہی فرطِ جذبات سے ہم دھڑام زمین بوس ہوگئے۔آنکھ کھلی تو آدھے صوفے پر اور آدھے فرش پر، گھڑی رات کے ڈھائی بجا رہی تھی اور سامنے ٹی وی پر خان صاحب چنگھاڑ رہے تھے،

او میاں صاحب پیار سے کہہ رہاہوں استعفیٰ دیدو ورنہ۔۔۔۔

دھاندلی ہوئی ہے، سونامی نہیں رکے گا

نوجوانو مغلِ اعظم کو نہیں چھوڑنا

میر شکیل الرحمٰن تم نے دھاندلی کی ہے، تمھارے کیمروں میں ہمارے لاکھوں جوان صرف ہزاروں نظر آرہے ہیں

عوام بے شک دیکھ لیں میرا مارچ قادری کے مارچ سے لمبا ہے

علامہ اقبال صاحب، آپ نے تو کہا تھا

"اٹھتے ہیں حجاب آخر، آتے ہیں جواب آخر”

تین دن ہوگئے آبپارہ کھڑا ہوں، جواب نہیں آرہا۔

پاشااااا – دیکھ رہا ہے نا تُو، کھجل ہورہا ہوں میں۔

میاں صاحب، اوئے میاں یہ سونامی بے قابو ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے ذہن میں سعادت منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ والا گڑ گڑ دی لالٹین کردار آگیا اور لبوں پر اک بے ساختہ مسکراہٹ، سر جھٹکا، ٹی وی بند کیا اور لمبی تان کر سوگیا۔

نوٹ: مرکزی خیال شوکت تھانوی کے سودیشی ریل سے ماخوذ

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , , , , | 1 تبصرہ