تُھک از جوید چوہدری

 خاتین و حضرات، میں اوں جوید چودری۔ خاتین و حضرات اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے اور انکے استعمال کا اختیار انسان کو دیدیا ہے۔

imagesخاتین و حضرات میں آج کا پروگرام انہی صلاحیتوں میں سے ایک کے بارے میں ہے۔ لیکن موضوع کی طرف جانے سے پہلے میں آپکو ایک کہانی سناتا چلوں۔ کوئی 2000 سال پہلے ایک بادشاہ تھا طورتمش جو بہت رحمدل تھا عوام کی خدمت کرتا اور فلاح کے منصوبے بناتا مگر کبھی عوام کا دل نہ جیت سکا اور عوام ہمیشہ اس سے خائف رہے۔ اسی وقت میں کسی اور ملک میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا فتوربش بہت ہی ظالم جابر اور کرپٹ حکمران تھا، عوام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھی ہوئی تھی اس نے مگر پھر بھی عوام کا پسندید لیڈر تھا اور عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا۔

کیا کیوں اور کیسے جانئیے گا پروگرام کے آخر میں۔ فی الوقت ہم واپس موضوع کی طرف آتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک تُھک بھی ہے۔ خاتین و حضرات تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ کتنےمشکل کٹھن اور بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام بھی اسی دوا نما خوبی کی بدولت نکلے۔

تُھک دو طرح کی ہوتی ہے، ایک لگائی جاتی ہے اور دوسری لگانی پڑتی ہے۔ اسکے استعمال کا اختیار قدرت نے انسان کے ہاتھ دیا ہے۔ چاہے تو مینارِ پاکستان پہ چڑھ کے شرطیں لگا کے کہ کس کی تھوک پہلے زمین پر پہنچے گی اور چاہے تو تُھک لگا کر لاکھوں اربوں کمائے۔ جیسے فزکس میں لیور ہے جس سے آپ بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتے ہیں، احرامِ مصر کو ایک ڈنڈے کے سہارے ہلا سکتے ہیں، ایفل ٹاور کو سرکا سکتے ہیں، فیری میڈوز کو لیور کے ذریعے اٹھا کر اسلام آباد کی طرف سرکا سکتے ہیں، احتجاجوں اور دھرنوں سے حکومت گرا سکتے ہیں  ویسے ہی کارپوریٹ، گورنمنٹ اور راج نیتی میں تھک بھی ایک لیور ہے جس کے ذریعے آپ بڑے سے بڑے کام نکلوا سکتے ہیں۔

ماضی قریب میں اسکی کئی کامیاب مثالیں ہیں۔ یہ رواج دنیا بھر میں عام ہے، بارک اوباما بھی امریکی عوام اور پارٹی کو تُھک لگا کر ہی اقتدار میں آئے۔ پاکستان جیسے ملک میں تو خیر اس ٹیلنٹ کی قدر بھی بہت ہے۔ آپ عامر لیاقت کو دیکھ لیں، محلے کی پنکچرڈ  سائیکلوں کے پیڈل مار مار شوق پورے کرتا تھا، آج اسی تُھک کے سر پہ ایک چینل کا پریزیڈنٹ بن گیا ہے، ہر رمضان گھر میں پھینیاں آئیں نا آئیں یہ ضرور آتا ہے۔ 20 کروڑ عوام کو 30 دن تُھک لگاتا ہے، جتنی مومن اپنی طرف سے نیکیاں کماتے ہیں یہ پیسے کمالیتا ہے۔

آپ عمران خان کو دیکھ لیجئے، 15 سال لور لور پھرتے رہے انقلاب لانے کو جگہ نہ ملی اور پھرموقف میں ذرا سی "تبدیلی” اور لہجے کی ذرا سی تلخی نے تُھک کی ایسی نہریں بہائیں کہ نونہالانِ انقلاب ایسے برآمد ہونے لگے جیسے ہاجوج ماجوج۔

آپ قادری جگر کو دیکھ لیں، محلے کی مسجد سے ایز خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرنیوالا یہ نوجوان آج شیخ الاسلام ہے، کرائے کی سائیکل لے کر پتوکی سے لاہور اکیلے آتے تھے آج   علامہ صاحب  ایمرٹس کی بزنس کلاس سے سفر کرتے ہیں اور انقلاب ساتھ لیئے گھومتے ہیں، پہلے یہ گھر کی گھنٹی بجاتے تھے تو اندر سے سڑا جواب آتا تھا "جا اوئے مولوی فیر آویں” اب یہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو للکارتے ہیں اور اپنے ستقبال کے لیئے عوام حکومت اور آرمی قیادت کو طلب کرتے ہیں۔ یہ سب اسی تُھک کی برکتیں ہیں۔

آپ چاچا تیتری کو دیکھ لیجئے پہلے محلے کے نان والا بھی اسکی گرائمر اور مشکل پسند  مہمل و بے مطلب کی مدح سرائی پر بے عزتی کردیتا تھااور ادھار نان دینے سے انکاری ہوجاتا کجا اب چاچا تیتری فوج سے لے کر سیاست اور پھل سبزیوں سے لے کر انقلاب سب موضوعات پر قلم کشائی کرتا ہے، یہی حال حسن نثار کا ہے۔

آپ دور کیوں جاتے ہیں۔ آپ میری یعنی جوید چوہدری کی ہی مثال لے لیں۔ ساری گرمیاں عین درمیان سے پھٹی نیکر پہن کے نہرمیں دوپہریں غارت کرنیوالا آج برینڈڈ سوٹ پہنتا ہے، بغیر گدی سائیکل چلانے والا آج 50 لاکھ کی گاڑی چلاتا ہے۔ محلے کے پارک کے علاوہ جس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا آج وہ ورلڈ ٹور کرتا ہے، سب اسی تُھک کے صدقے۔ جب تک دنیا میں ملک ساب جیسے نیک پارسا خدا ترس لوگ ہیں آپ کا بھائی ورلڈ ٹور کرتا رہے گا۔

خاتین و حضرات آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تُھک کیسے کام کرتی ہے۔ ملکی سطح ہر تُھکیا بننے کیلئے آپکے پاس مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک ہونا لازم ہے:

  • وقار – تُھک کا  لا ئسنس  ہے یہ  اوروں کو بھی لائسنس دیتا ہے
  • سیاست – سیاست تو خیر سے تُھک کی فیکٹری ہے جس سے دیگر صنعتیں بھی مستفید ہوتی ہیں
  • میڈیا – چاند کی مانند اسکی اپنی تُھک نہیں ہوتی یہ سیاست اور وقار کی تُھک عوام کو لگا کر دونوں طرف سے لوٹتے ہیں
  • سوشل ورک – یہ انٹرنیشنل تُھک ایجنسی ہے

خاتین و حضرات یہ جو ورلڈ ہے اس میں دو ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جن کو تُھک لگتی ہے اور دوسرے وہ جو تُھک لگاتے ہیں، اب یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ کونسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو کہانی شروع میں بیان کی تھی اس میں بھی ہمارے سیاستدانوں اور انقلاب نوردوں کی طرح تُھک بندی ہی وہ گیدڑ سنگھی تھی جسکی وجہ سے فتور بش عوام کا پسندیدہ اور من بھاتا لیڈر تھا۔

Advertisements
شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , , , | 1 تبصرہ

انقلاب اور انکی اقسام

یہ جو ملکِ خداد میں آجکل "جسکی پارٹی اسکا انقلاب”  والا ڈرامہ چل رہا ہے، یہ کوئی آج کی بات نہیں۔ اقوامِ عالم میں یہ بہت پہلے ہوہوا چکا  ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ پراپر پلاننگ وغیرہ کے بعد ہی ایسی حرکت کی جاتی تھی، پہلےپہل اس میں سیاست کا اتنا عمل دخل نہیں تھا، جدوجہدکامیاب ہوجاتی تو انقلاب وگرنہ بغاوت۔ انقلابیوں کی لمبی لسٹ موجود ہے۔ مشہور انقلابوں میں انقلابِ فرانس، انقلابِ ایران، اور شاید روس کا انقلاب بھی۔ مشہور انقلابیوں میں لینن، چی گویرا، نیلسن منڈیلا، مارٹن لُدرکنگ وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے یہاں برصغیر میں اگر 1857 ءکی جنگ ِ آزادی جیت جاتے تو سرسید احمد خان بھی انقلابی مشہور ہوتے اور دورِ حاضر کے کئی انقلابیوں نے انکی فوٹو جابجا اپنے فیس بک پر "انقلاب کی علامت” کے طور پر ٹانگی ہوتی جیسے آجکل انڈیا   خوامخواہ گاندھی جی کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر اور تحریکِ آزادی کی علامت کے طور پر پورٹرے کررہا ہے۔ حالانکہ معاملہ گاندھی جی پر رہتا تو سارا برصغیر آج بھی بیٹھ کر گاندھی جی کے اُسی چرخے پر کچھے اور بنیان بُن رہا ہوتا۔ پہلے والے انقلاب سبھی بڑے خشک اور خونیں ہوتےتھے۔ اب البتہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں اور انقلاب لانے کے نئے نئے ٹولز آگئے ہیں جیسے کہ فیس بک  ، جلسہ سیلفیز اور میوزیکل البمز۔
دنیا میں انقلاب مختلف وجوہات کی بناء پر آتے رہے مثلاً
• یکساں حقوق کیلئے
• آزادی کیلئے
• سماجی برابری
• عوام کے استحصال کے خلاف
• ترقی کی خاطر

اور ان تمام انقلابات میں چند قدریں مشترک تھیں۔ ان تمام انقلابات کی بنیاد عوام کی جانب سے رکھی گئی نہ کہ لیڈروں نے باور کرایا کہ بھائیو تمھیں انقلاب چاہیئے، انقلابیوں کو لیڈ کرنے انہی کے بیچ سے لوگ اٹھے انکے اپنے لوگ، کسی نے باہر سے آکر کمان نہیں سنبھالی، انقلابی تحریکیں کسی نہ کسی تھیوری یا سوچ جیسے مارکسسٹ تھیوری وغیرہ کے تحت چلیں نہ کہ "سوچی سمجھی” سکیموں یا بیرونی امداد کے تحت۔ پرانے وقتوں میں لوگ اکثر فارغ ہوتے تھے اسلیئے ہر گلی ہر محلے میں گھروں میں اخباروں میں انقلاب کے تذکرے ہوتے بحثیں ہوتیں عوامی رائے کو زیرِغور لایا جاتا، فیوچر پلاننگ ہوتی سٹریٹجی بنتی وغیرہ وغیرہ، آجکل چونکہ عوام کے پاس اتنا ٹائم نہیں تو یہ تمام کشٹ بھی لیڈر حضرات خود ہی اٹھالیتے ہیں۔ پہلے زمانوں میں قربانیاں لیڈر اور عوام دونوں دیتے تھے، آجکل عوام قربان ہوتی ہے اور لیڈر اس قربانی کے صدقے حکومت کرتے یا انقلاب برپا کرتے ہیں۔ برصغیر کی مختصر سی تاریخ میں قائدِاعظم ایک انقلاب لائے جو پاکستان کی شکل میں ہمیں نصیب ہوا مگر ہم نے الحمدللہ اسکے ساتھ وہ کیا کہ پھر کسی بھی مخلص لیڈر نے ایسی جرات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ ایک دہائی سے البتہ  سیاستدانوں نے انقلاب کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آجکل اکثر انقلاب خود لائے یا بلوائے جاتے ہیں، اقتدار حاصل کرنے یا حاصل کیا ہوا اقتدار بچانے کیلئے۔

پاکستان ایک کریٹو ملک واقع ہوا ہے، یہاں آکر تو اسلام میں بھی بدعتیں ہونے لگیں بیچارا انقلاب کس شمار میں، سو ہم اور ہمارے "سیاسی انقلاب کے خواہاں لیڈروں” نے انقلاب میں بہت جدت پسندی لائے ہیں، پاکستان میں مندرجہ ذیل قسموں کے انقلاب لائے جاتے ہیں، خیال رہے کہ کوالٹی کنٹرول تقاضوں کے پیشِ نظر تمام تر انقلاب دساور سے لاکر لوکلائز کیئے جاتے ہیں "میڈ ان پاکستان” انقلاب ابھی تک بنا نہیں۔ دورِ جدید میں ہر انقلاب فیس بک، میڈیا، کرائے کے انقلابیوں اور بھاڑے کے دانشوروں کا مرہونِ منت ہے۔ انکے بغیر انقلاب لانا بالکل ویسی ہے جیسے ناڑا ڈالے بغیر شلوار پہننا۔
پراکسی انقلاب – پراکسی انقلاب ایک ایسا طریقہ انقلاب ہے جسکے ذریعے آپ گھر بیٹھے کسی دوسرے ملک میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اس میں خرچہ تھوڑا زیادہ آتا ہے اور اتنا دیرپا نہیں ہوتا جیسے مصر، لیبیا وغیرہ میں آیا تھا۔ اس انقلاب میں ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کافی دخل ہوتا ہے۔
بوری بند انقلاب – یہ انقلاب تحریکِ نامعلوم افراد نے متعارف کروایا۔ اس کی روح سے جو بھی شخص "تحریک” کے تشخص کیلئے خطرہ سمجھا جائے، سماجی معاشی یا لسانی بنیادوں پر، اسے بوری میں بند کرکے سپردِ سڑک کردیا جاتا ہے۔
میوزیکل انقلاب – یہ طریقہء انقلاب 2011 میں متعارف کروایا گیا اور آج تک کافی مانگ ہے اسکی۔ علاوہ دیگرے یہاں ملک کے نوجوانوں کو مفت تفریح کے مواقع مہیا کیئے جاتے ہیں جس میں کنسرٹ اور آئی کینڈی گیم سرِ فہرست ہیں۔ یہ حصولِ اقتدار کیلئے مجرب نسخہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسکا آغاز تلاوت سے اور اختتام گانے پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ باتیں ٭٭٭٭٭ کے ماہر ہوتے ہیں۔ فیس بک پر چھائے ہوئے ہیں۔ انکا موٹو صاف ہے، جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے تو دھاندلی کا شور۔ حسن نثار کے پیرو ہیں تھوڑے بدتمیز ہیں مگر بچے ہیں۔
خاموش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب میوزیکل انقلاب کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دو مختلف مکتبہ فکر نے اختیار کیا۔ اسکے تحت "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں اتوں رولا پائی جاؤ” کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ یہ انقلاب صرف الیکشنوں کے ذریعے آتا ہے اور اکثر فوج کے آنے پر ہی رخصت ہوتا ہے۔
خودکش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب ٹی ٹی پی اور ذیلی شاخوں نے متعارف کروایا۔ اسکے تحت جو بات نہ مانے، اچھا نہ لگے یا "ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق” وغیرہ جیسے کاموں کیلئے مخالف کو بمب سے اڑا دیا جاتا ہے۔ یہ اپنی طرز کا واحد انقلاب ہے جو اسلامی نظام کیلئے ہے اور انکے حملے بھی مساجد پر ہوتے ہیں، سینما ڈسکو نائٹ کلبز وغیرہ کو نہیں کچھ کہتے۔ اس طریقہ انقلاب کا صرف ایک فائدہ یہی ہے کہ آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔
کنٹینری انقلاب – یہ انقلاب گزشتہ برس ہی بلادِ کینیڈا سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ سب سے لیٹسٹ طریقہ انقلاب ہے اور اوپر بیان کیئے گئے تمام تر انقلابوں کی خوصیات برجہ اتم موجود ہیں۔ مثلاً عوامی انقلاب عوام کے پیسوں سے، غریب عوام کی مفت تفریح۔ یہ انقلاب ہانڈی کا ابال ہوتا ہے جیسے کالین بیچنے والے پٹھان 50000 سے شروع ہوکر 2500 میں فائنل کردیتے ہیں ویسی اس طریقہ انقلاب میں کومپرمائز کی بے پناہ گنجائش ہوتی ہے جو منالو مان جاتے ہیں۔ یہ انقلاب تھوڑا بدتمیز ضرور ہوتا ہے اسکی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ بیرونِ ملک سے آیا ہے اور یہاں کے طور طریقوں رواجوں موسم وغیرہ سے مانوس نہیں زیادہ۔ اسلامی تڑکے سے لیکر فتوے اور ڈانس سے لیکر آؤٹنگ تک کی تمام سہولیات اس طریقہ انقلاب میں موجود ہیں۔ جیسے برسات میں سیلاب آتا ہے ویسی آجکل ملکِ خدادا میں کنٹینری انقلاب آیا ہوا ہے۔ اسکے آتے ہی بہت سے برساتی ڈڈو بھی نکل آتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے انقلاب سے محفوظ فرمائے۔
اقوام ہر قسم کے حالات میں سے گزرتی ہیں اور پنپتی ہیں ہم بفضلِ خدا اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ ہم بحیثیتِ قوم تماش بین تھے اور ہیں، ایسے ہی رہیں گے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ 71 میں ملک دولخت ہورہا تھا مگر ہم تماش بینی میں مصروف رہے، سیاست بچانے کے چکر میں ریاست بھینٹ چڑھا دی۔ بیان بازی الزام تراشی۔ سیاستدان تو ایک طرف سونے پہ سہاگہ ہماری قوم کے دانشور۔ انکی سیان پتی ہمیں لے ڈوبی۔ قادری صاحب کی ہی مثال لے لیں سب جانتے ہیں فراڈیئے ہیں پچھلے سال بھی آئے اور سال بھر کا راشن اکٹھا کرکے نکل گئے، یقیناً اس بار بھی ایسا ہی کریں گے، مگر ہم پھر بھی انکو میڈیا پر فل کوریج دے رہے اور ہمارے لیڈر و نام نہاد دانشور بغضِ معاویہ میں انکو گلے لگائے پھرتے ہیں۔
ملک میں لیٹریسی ریٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے، کبھی کسی نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی، شعور نہیں ادراک نہیں اور رہی سہی کسر ان شعبدہ بازوں نے پوری کردی۔ جس ملک کے عوام انقلاب کیلئے قادری اور دانشوری کیلئے حسن نثار کے مرہونِ منت ہوں اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے وہاں ہر موسم کیساتھ نئے انقلاب کا آجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , , , , , , | 4 تبصرے

پیمپر لیگ

 نوٹ: یہ پوسٹ ان تمام افراد کیلئے "ہائی لی ریکمنڈڈ” ہے جنکے یہاں ماضی قریب میں کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے یا مستقبل قریب میں ایکسپکٹڈ ہے یا مستقبل بعید میں ارادہ رکھتے ہیں۔

ملکِ عزیز میں آجکل حالات بڑے ہی نازک موڑ سے گزر رہے ہیں۔ حالات تو خیر ہمارے بلکہ ہمارے آباؤ اجداد کے بچپن سے ہی نازک موڑ سے گزر رہے ہیں، پتہ نئیں کتنا کوئی لمبا موڑ ہے کہ ختم ہی نئیں ہوریا۔ جیسے ماں باپ پانچویں جماعت سے بچوں کو کہنا شروع ہوتے ہیں بیٹا اگر پرائمری میں نمبر اچھے نہ آئے تو ساری زندگی دکھے کھاؤ گے اور یہ ڈراوا یونیورسٹی تک ساتھ رہتا ہے، بچہ پڑھ پڑھ پھاوا ہوجاتا ہے اور نوکری کے چکر میں دھکے ہی ملتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی ہر 10-15 سال بعد آرمی سے ٹھڈے شڈے کھاکر ہمارے سیاستدان بھی یہی کہتے ہیں کہ جمہوریت کو پنپنے دیا جائے ورنہ دھکے کھائیں گے سب بلاہ بلاہ اور ہوتا اخیر وہی ہے، جمہوریت جتنی پنپتی ہے اتنے ہی دھکے دیتی ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ تو "ان کومپیٹنس” ہے یعنی  آپ موچی سے حجامت بنوائیں گے تو ٹک بھی زیادہ لگیں گے اور کوجے بھی۔ برا ہو جمہوریت کا کہ زبان کو رکنے کی عادت نئیں ہوتی، دیکھئیے نا حالات سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی بات۔

خیر، بات حالات سے شروع ہوئی تھی تو جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی کے مصداق وہیں آتے ہیں۔  انہی نازک حالات کے بیچ پچھلے کوئی 2 مہینے میں الحمدللہ میرے بہت سے جاننے والوں کے یہاں اولاد کی ولادت ہوئی ہے۔ یہ امر بھی ویسے غور طلب ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سےجاننے والوں کے یہاں ولادتیں اکٹھی ہوتی ہیں۔ یعنی دنوں یا ہفتوں کے فرق سے۔ اب یہ محض اتفاق ہے یا پلاننگ، واللہ اعلم بالصواب۔

 بچہ کہاں سے سیکھ کے آتے ہیں یہ تو پتہ نہیں مگر انہیں ابتداً صرف دو ہی کام آتے ہیں۔ ایک رونا اور دوسرا وہ جس کیلئے پیمپر استعمال ہوتا ہے۔      ہمارے زمانے اچھے تھے، جب ہر جا کچھے تھے۔ وہی پہنایا، گندا ہوا تو دھو کے سکھانے ڈال دیا اور اتنی دیر بچہ "فیشن” کرتا رہتا جیسے آجکل بہت سی ماڈلز  کرتی ہیں۔ آجکل عجیب عجیب مسائل ہیں۔ جن میں سے اکثر فیشنی ہیں جیسے کہ پیمپروں کا استعمال۔ پہلے لنگوٹ ہوتے تھے جو باہمی استعمال کے کام آتے تھے اور بڑے ہوکر "لنگوٹیے” بنتے تھے۔ اب پیمپروں کے دور میں جو بڑے ہوتے ہیں تو "۔۔تیے” بنتے ہیں ۔ اور یہ بذاتِ خود ایک ایسا ٹاپک پر ہے جس پہ ایک عدد بلاگ الگ سے چاہئے، وہ پھر سہی۔

    pampersمہنگائی کا رونا آجکل ہرکوئی رو رہا ہے۔ اور جاننے والے جانتے ہیں کہ اتنا خرچہ کل ملا کے نہیں آتا جتنا صرف پیمپروں پر آجاتا ہے۔ اور یہ خرچ بھی ایسا ہے جسے "روکا” نہیں جاسکتا۔ اب بچے کو کیا سمجھایئے کہ بیٹا 25 روپے کا پیمپر ہے، آپ صرف چند سیکنڈ کی تسکین کی خاطر ضائع کردیتے ہو۔ نہ اسکا اختیار کرنے پہ ہے نہ روکنے پر! یا آجکل کے حالات کے تناظر میں یوں سمجھ لیجئے کہ جیسے گورنمنٹ کو واقعہ ہوجانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ "اچھا، ہوگیا ہےِ” بالکل ویسے ہی اس تخریب کاری کا پتہ بھی بعد از زیاںِ پیمپر ہوتا ہے۔ اب اعتراض کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ بھئی اتنی ہی تکلیف ہے تو کیوں پیمپر پہناتے ہو، بچے کو کھلا چھوڑ دو۔۔۔ اچھا ہے ذرا ہاتھ پیر ہلائے گا نشو نما بھی اچھی ہوگی۔ تو انکے لیئے عرض ہے کہ بچے کو کیا پتہ کب کہاں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ دوسرا آپ اس ملک میں رہتے ہیں جہاں جس دیوار پہ لکھا ہو "وہ دیکھو، گدھے کا بچہ پیشاب کررہا ہے” اسی کے نیچے سب سے زیادہ "ہنرمندی” دکھائی ہوتی ہے۔ وہاں آپ ایک نومولود سے کیا "ایکسپیکٹ” کرتے ہیں۔

اور بات معاشرتی خرابی کی آہی گئی تو عرض کرتا چلوں کہ یہ جو بھی کمپنیاں پیمپر اور اسی کیٹگری کی دیگر قابلِ ذکر و ناقابلِ ذکر اشیاء بناتے ہیں انکا بھی کوئی دین ایمان نہیں۔ بے ایمانی کی حد ہے یا کبھی انہوں نے اپنی پراڈکٹ کو "لائیو ٹیسٹ” نہیں کیا ورنہ جان جاتے کہ آٹھ دس گھنٹے نہیں چلتا ایک پیمپر!

 آجکل جیسے رواج ہے کہ دو یا تین لوگوں کو ایک ہی مسئلہ درپیش ہو تو وہ مشترکہ حل تلاشنے کیلئے کوئی اتحاد، انجمن یا ایسا ہی کچھ نہ کچھ بنا لیتے ہیں۔ تو صاحبو جب ہن پیمپری خرچوں سے بلبلا اٹھے تو سر جوڑ کر بیٹھے کہ اب اسکا کیا حل نکالا جائے۔ نتیجتاً ہم نے ایک لیگ بنائی جس میں وہ تمام افراد جو پیمپروں کے ستائے ہوئے ہیں وہ بائی ڈیفالٹ ممبر ہیں۔ مقصد اس لیگ کا بچوں تک سستے اور معیاری پیمپر پہنچانا ہیں۔ انکے والدین کی جیبوں کو سکون فراہم کرنا ہے تاکہ وہ پیمپر کے علاوہ بھی کچھ خریدنے کی سکت رکھ سکیں۔ ہمارا لائحہ عمل بڑا واضح ہے۔ نو انڈر دا ٹیبل ڈیل۔ ٹوئیٹر پہ ٹرینڈ چلائے جائینگے، فیس بکی ایونٹس کریٹ کرینگے، دھرنے دبا کے ہونگے۔ چاہ پانی اور موسیقی کا انتظام بھی ہوگا دھرنوں پہ۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریکِ دھرنا ہونگے۔ اور اس کیمپین کی کامیابی پر ہی فیصلہ کیا جائیگا کہ آیا ہمیں آئندہ انتخابات میں ایک منظم پارٹی کے طور پر الیکشن لڑنا چاہیئے یا نہیں، آپکی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔

والسلام،

چاند تارا، راج دلارا

قوم کا مستقبل، پیمپروں کا مارا

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , , , , , , , , | 4 تبصرے

لاھور لاھور ہے

 کوئی مانے یا نہ مانے، ہم اپنے تیئں ایک ادیب واقع ہوئے ہیں۔ اور جیسے تمام بڑے ادیب کہیں جانے سے پہلے اسکے بارے پوچھ پاچھ اور پڑھ پڑھا کر جاتے ہیں اور وہاں جاکر اسی  پڑھے پڑھائے کو اپنے انداز میں بیان کردیتے ہیں۔ تو ہم نے بھی لاہور آنے سے پہلے پطرس بخاری کا "لاھور کا جغرافیہ” پڑھا۔ اب جو یہاں آئے تو کچھ تبدیلیاں پائیں سو انکو رقم کرنا مقصد ہے۔

آج کا لاہور:

پطرس بخاری نے 50-60 سال پہلے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ لاہور دریافت ہوچکا ہوا ہے اور اسکے سابقے لاحقے بتا کر علمیت کا رعب جھاڑنا کوئی بڑی بات نہیں اور یہ کہ بڑے درست کہتے تھے، لاہور لاہور ہے۔ سچ مانیں لاہور واقعی آج بھی لاہور ہی ہے۔ دنیا بدل گئی مگر لاہور نئیں بدلا۔ البتہ اب کچھ نئی ورائٹی آگئی ہے۔ جو شہر کبھی مغلوں کا تھا اب اس میں مغلاپا، مغلپورہ تک ہی رہ گیا ہے، ثقافتی اعتبار سے بھی شاہی قلعے سے شاہی محلے تک کا سفر طے ہوچکا ہے ۔  رنگ بازی آج بھی ویسی ہی ہے۔ ہمیں بچپن سے روای کے بارے بتا یا گیا تھا کہ ایک دریا ہے جو لاہور کے گرد بہتا ہے، جب بقلم خود دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ ایک نالہ ہے جو بھینسیں نہلانے کیلئے مختص ہے اور پانی اسقدر کالا کہ اکثر اس میں نہاتے ہوئے بھینسیں گوری لگتی ہیں۔

لاہور  کبھی صرف ان بارہ دروازوں اور چند ایک سڑکوں پر مشتمل تھا جس کو کچی لسی کی طرح کھینچ کھینچ کر بے تحاشا بڑھا دیا گیا ہے اور آج  بھی یہ شہر ایسے بڑھ رہا ہے جیسے غریب کے بچے۔  لاہور میں بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں اصل لاہوریئے کی پہچان البتہ اب بھی انکی ٹریڈ مارک گالیاں ہیں جسکے بارے یہاں ہم نے سنا کہ "گالی ایسی ہونی چاہیئے کہ بھینس سنے تو دودھ دینا بند کردے”۔

کل کے لاہور کی زینت تانگے تھے اور سڑکوں پہ جابجا انہی کی ‘خاموش مذمت’ کے آثار ملتے تھے جبکہ آج کا لاہور رکشوں کا مرہونِ منت ہے اور فضا میں پھیلا دھواں اسکا غماز ہے۔ وہ عمارتیں جو گزشتہ صدیوں میں بادشاہوں نے اپنی شان و شوکت بڑھانے کیلئے تعمیر کروائی تھیں اب ظالم سماج سے چھپ کر اظہار و افکارِ محبت کی محفوظ پناہ گاہیں بن چکی ہیں۔ لاہور جو مغلوں اور انگریزوں کے فنِ تعمیر کا شاہکار تھا آجکل سلطنتِ شریفیہ  کی تعمیرات کا عکاس ہے، ہر ممکن جگہ کے اوپر فلائی اور اور نیچے انڈر پاس بنادیئے ہیں تاکہ بارش کے پانی کو ضائع ہوکر نالیوں میں بہنے سے بچایا جاسکے اور عوام بارش کے بعد بھی اسکے پانی سے لطف اندوز ہوسکیں۔

جہاں قدیمی لاہور کی ہر چیز سمٹ کر ناپید ہوتی جارہی ہے وہیں مغلوں کی خوابگاہوں سے نکل کر خواجہ سرا لاہور کی سڑکوں تک آگئے ہیں، ایک محتاط ادازے کے مطابق لاہور میں رکشوں اور کھسروں کی تعداد تقریباً ایک جتنی ہے اور  برابر بڑھتی جارہی ہے۔

لاہور کی ٹریفک:

لاہور کی سڑکوں پہ ٹریفک اتنی ہے کہ گمان ہوتا ہے شاید سارا لاہور ہی سڑکیں چھاپنے نکلا ہوا ہے۔ اور بے ہنگم اسقدر جیسے کسی بے سرے پاپ سنگر کا گانا۔ ہم ساری عمر اسلام آباد میں اپنی لین میں چلنے کے عادی، ہمیں کیا خبر کہ اس طوفانِ بدتمیزی سے کیسے نبردآزما ہونا ہے۔ پہلے پہل تو بہت گھبراہٹ ہوئی مگر پھر ہمت کرکے

بے خطر کود پڑا ٹریفکِ لاہور میں عشق

ٹریفک وارڈن ہیں محوِ تماشا سرِ عام ابھی

ساری دنیا میں ٹریفک کے ٹریکس آنے اور جانیوالی گاڑیوں کیلئے مختص ہوتے ہیں، لاہور میں البتہ اسکا نیا استعمال یہ دیکھا کہ آپ یہاں سے بھی آ جا سکتے ہیں اور وہاں سے بھی۔ لوگ اتنے ملنسار ہیں کہ رانگ وے سے آنے پر بھی ویسے ہی مسکراتے ہیں جیسے رائٹ وے سے آنے پر۔

 کی سڑکوں پہ قابلِ غور وہ بچے ہیں جو سلطان گولڈن بننے کی آرذو میں موٹر سائیکل پہ فری آف کاسٹ کرتب دکھاتے ہیں اور دوسرے نمبر پہ وہ رکشہ والے جو پریکٹس تو شاید موت کے کنویں پر کرتے ہیں اور چلاتے لاہور کی سڑکوں پر ہیں۔ ان پر وہ عربیوں کے اونٹ والی مثال صادق آتی ہے اگلا پہیہ گھسانے کی جگہ مل جائے تو باقی رکشہ زبردستی گھسا لیتے ہیں۔ رکشہ والے تو لاہوری سڑکوں کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ جیسے اونٹ صحرا کا  جانور ہے ویسے ہی رکشہ لاہور کا جانور ہے۔

لاہوریوں کا بیان:

ہم نے ابھی تک کوئی اوازار لاہوریا نئیں دیکھا۔ لاہوری بہت خوش مزاجیے اور خوش خوراکیے ہوتے ہیں۔ خوش خوراکی کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ ساری دنیا شادی میں ‘شرکت’ کرتی ہے اور لاہوریئے شادی ‘کھانے’ جاتے ہیں۔ بلکہ بقول شخصے لاہوریئے کھانا ثواب سمجھ کے کھاتے ہیں۔ یہاں کے پکوان بھی لذیذ ہیں اور بے تحاشا ہیں۔ وہ انگریزی کہاوت ہے نا "یو نیم اٹ اینڈ دے ہیو اٹ” اب اس بات سے میرا مقصد ہرگز علاقائی برتری ثابت کرنا نہیں۔ ہریسے سے لیکر کتلمے تک اور کلچوں سے لیکر چنوں تک، توا چکن سے لیکر مکھنی کڑاہی اور پراٹھوں سے لیکر پٹھوروں تک سبھ کچھ لاجوب ملتا ہے۔  یہاں دیگر چیزوں کے علاوہ مچھلی کمال کی ملتی ہے،  قابل ذکر سردار مچھلی،صدیق دارلماہی اور بشیردارلماہی بلکہ مشتاق یوسفی صاحب کے الفاظ میں جیسے مصر تحفہ نیل ہے ویسے ہی لاہور تحفہ بشیر ہے (عقلمند کو اشارہ کافی وغیرہ وغیرہ)۔ ان سب دارلاماہیات پر ایک ہی تصویر لگی ہوئی ہے  اور دوسروں کو نقالوں سے ہشیار رہنے کی تاکید بھی کرتے ہیں، اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔

اس شہر نے اردو ادب کو ایسے ایسے نابغہ روزگار ادیب دئیے کہ دنیا ان پہ رشک کرتی ہے مگر آج بھی یہاں چوک ‘چونک’ اور گھاس ‘گھانس’ ہے ۔ رطب السانی ان بیان ایبل گفتگوہات میں زوروں پر ہوتی ہے اور زبان و بیان کا اعلیٰ درجے اور ذو معنی مطالب کا میلہ سا لگا رہتا ہے۔

لیکن کیا کیا جائے کہ اس لاہور میں ان تمام کج ادائیوں کے باوجود محبوباؤں والی خوبیاں ہیں کہ جی چاہنے کے باوجود چھوڑا نہیں جاسکتا۔

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ | 14 تبصرے

شاعر اور دسمبر

سارے چھپ جاؤ دسمبر آ ر ہا ہے
ہنسنے کوئی نا پائے یہ مہینہ غم کا ہے
دسمبر سے پتہ نئیں سب کو کیا ویر ہے۔ ابھی آمکدا نئیں اور رونا دھونا پہلے شروع، دسمبر نہ ہوا تڑپ تڑپیا ہوگیا (اب اگر تڑپ تڑپیا کا نہیں پتہ تو بچپن میں سنی کہانی کے کسی اور ولن کا تصور کرلیجئے)۔ شاعر ہو یا گلوگار سب نے حسبِ توفیق اس کو رگڑا ہے۔ شاعروں نے تو دسمبر کو حوا ہی بنادیا ہے، یقین نہ آئے تو خود دیکھ لیجئے (دسمبری شاعری 1 2 3 4 5 )۔ دسمبر کا تصور ہی ایسا خوفناک بنادیا ہے جیسے بچپن میں مارچ (امتحانوں اور رزلٹ) کا تصور، کہ موصوم بہ ماہِ اجتماعی بستی (اجتماعی اس لیئے کہ ہمارے یار دوست بھی ہم ایسے لائق فائق ہی تھے اور تقریباً ایک ہی جیسے اکرام سے نوازے جاتے تھے) شاعروں سے بچی خود نہیں پھنستی اور نام دسمبر کا! خود جا کے اس سے بات کر نہیں سکتے اور کوسنے دسمبر کو۔ دھند کے موسم میں "آنکھ دھندلائی تھی شہر دھندلایا نا تھا” ہی ہوگا نا۔ بندہ پوچھے بھئی دسمبر نمانے نے آپکا کیا بگاڑا ہے؟ دسمبری دکھڑوں کی روداد تو ویسے جعفر بھائی نے کمال بیان کی ہے جس کے سبب ہمارے دسمبر میں پیدا شدہ  ایک دوست کی کافی واٹ لگائی جاچکی ہے۔

 مستی شعراء کی ہوتی ہے عشاق بے چارے ایویں ہی شرمندہ ہوئے پھرتے ہیں۔ کسی کو زکام لگے تو وہ بھی چھپ چھپ کر ناک سنگھوڑتا ہے کہ کہیں اس پہ اشک باری کا الزام نہ آجائے۔ محبوباؤں بیچاریوں کی تو خوامخوہ ہی مٹی پلید ہوتی ہے اس مہینے۔ جسے ذرا ٹھنڈ لگ جائے وہ ایک درد بھری نظم لکھ مارتا ہے محبوبہ پر اور وہ بیچاری بیٹھی یہی سوچتی رہتی ہے "ہن میں کی کیتا” اور دوسری طرف دوشیزاؤں کا بھی یہی حال ہے۔ کولڈ کریم نے خشکی ختم نہ کی تو فٹ دسمبر کو کوسنے دینے لگیں گی کہ خشک مزاجی کا موسم ہے۔ عاشق بیچارہ جس نے 11 مہنیے خوار ہو ہو کر دسمبر تک  عشق ٹپایا تھا سر پیٹ لیتا ہے کہ ایک سردی اوپر سے سردمہری "ہن چڑی وچاری کی کرے، ٹھنڈا پانی پی مرے”
ویسے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس موسم میں مونگ پھلی محبوب سے زیادہ دلنشین لگتی ہے (مونگ پھلی بستر میں نیم دراز ہوکر لحاف اوڑھ کر انجوائے کی جاتی ہے جبکہ صنفِ دیگر کیساتھ ایسا کرنے میں بہت سی شرعی و قانونی قباحتیں ہیں- واللہ اعلم بالصواب)۔
شاعر تو ایک طرف رہے، گلوکاروں نے تو ایسی نظر لگائی کہ جب سے ابرار الحق کا بھیگا بھیگا دسمبر آیا  دسمبر میں بارشیں ہونا بند ہوگئیں۔ سارا دسمبر خشک سردی پڑتی ہے، ٹکا کے دھند ہوتی ہے اور انکے مداح گرم لحافوں میں کھانستے کھانستے "بھیگا بھیگا دسمبر” انجوائے کرتے ہیں، باز پھر نہیں آتے۔
اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ دوستو، دسمبر بہت پیارا مہینہ ہے، اسکو انجوائے کریں، چولیں مار دکھی شاعری اور پرائی معشوقوں پیچھے ضائع مت کریں۔
شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ | 9 تبصرے

شاہی کاکا اور پاکستان

ماہِ صیام الحمدللہ ملکِ خداد میں پوری آب و تاب اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے۔ تمام ٹی وی و فلمی حاضر سروس و ریٹائرڈ ایکٹر و ایکٹرسس عوام الناس کی خدمت میں ہمہ وقت حاضر  ہیں۔ اس صورتِ حال پہ میرؔ مرحوم کا وہ شعر یاد آتا ہے
؎   میرؔ  کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
        اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
یعنی جن کے توسط سے سال بھر  گناہوں کی پوٹلی بھرتے ہیں، رمضان المبارک میں انہی کے طفیل توبہ کرنی پڑتی ہے۔ ابھی کل حامد میر اور خود ساختہ سپہ سالارِ گفتار جناب زید حامد کے جھگڑے کا طنطہ اٹھا وا تھا جس میں اول الذکر نے موخر الذکر کو سُو کردیا تھا۔ سوشل میڈیا نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فریقین کی اچھی بینڈ بجائی۔ یہ قضیہ ابھی حل نہ ہوا کہ بلادِ برطانیہ سے "خوشخبری” کی نوید آئی۔ وہاں ابھی "کچھ” ہوا بھی نہیں تھا اور یہاں پاکستانی عوام میں خوشی کا سماں تھا جیسے کیٹ مڈلٹن انکی سگی خالہ ہے، کچھ تو ایسے بات کررہے تھے جیسے اس معاملے میں انکے زورِ بازو کو دخل ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت پنگے لینا  تو ہمارا پرانا وطیرہ ہے جیسا کہ امریکی صدارتی انتخاب کے موقع پر بھی ہم نے بیان کیا تھا۔ خیر، ذیل میں ملکہءعالیہ برطانیہ کو  بذریعہ خط بھیجی گئی مبارکباد  ہے، ملاحظہ ہو:-
"بخدمت جناب،
 ملکہ عالیہ،محترمہ الزبتھ دوم صاحبہ
سابقہ حاکمہ ہند و سندھ،
بعد بجا لینے کے کورنش و آداب، ملکہ محترمہ اللہ آپ کو اور لمبی زندگی دے  اور آپ کا اقبال بلند کرے (اور بقول ایک مرحوم بزرگ آپ اب صور پھونکوا کر ایک دفعہ ہی جانا)۔ آپ کے خاندان میں اضافے کی خبر سنی، یقین مانیں اتنی کوئی خوشی ہوئی کہ جس کی انتہاء نئیں، یہاں کوئی جمتا تو ہم منصوبہ بندی اور اخراجات کا طعنہ دے دے کر مار دیتے یا بول فلم کا سیکؤل بنادیتے، مگر چونکہ ملکہ عالیہ کی دوسری نسل کی پہلی خوشی ہے اس لیئے ہم بھی دل کھول کے خوشی مناتے ہیں کہ ہم بھی ماموں بنے ہیں۔ شام سے ہی سب زچہ بچہ کی خیریت کی دعائیں مانگنے لگ گئے تھے۔ اور یہ سن کر کہ کاکا ہوا ہے خوشی کو چار چاند لگ گئے۔ یقین نہ آئے تو آپ پاکستانی سوشل میڈیا دیکھ لیں۔ ہم نے کبھی سگی پھپھی کے گھر اولاد ہونے پر اتنی خوشی نئیں تھی منائی جتنی آپ کے یہاں ہونے کی منائی اور مٹھائی بھی بانٹی۔  عوام الناس تو کیا ذکر ہمارے دو چار اینکر تو فرطِ جذبات میں آپے سے باہر ہوگئے ساحر لودھی تو سیٹ پر ہی می رقصم اور لُڈی ڈال ڈال کر نیم بیہوش ہوگیا اور عامر لیاقت کاکے کی جنس پر شوخا ہوکر کہتا رہا "تکے لگاؤ مسلمانو تکے لگاؤ”۔ اور آپ جھنڈ اور عقیقہ ہونے دیں ہم یہاں ٹی وی پر کاکے کی شان میں باقاعدہ شوز کریں گے اور آپکے کاکے کو ہماری آنیوالی نسل کا آئیڈیل بنادیں گے۔ آپ کہیں تو "حسنِ کارکردگی” پر شہزادے شہزادی کو کوئی تمغہ وغیرہ عنایت کردیں؟ سرکاری طور پر پذیرائی کیلئے خان صاحب بھی وہیں ہیں، ملکی معاملات کو پسِ پشت ڈال کر جنابِ عالیہ کی خوشی دوبالا کرنے آئے ہیں فقط۔ آپ کاکے کو لے کر پاکستان آئیں ہم "بھٹو کی بیٹی آئی ہے” جیسا کوئی دلفریب گانا بھی چھوٹے حضور کی نظر کریں گے جیسے کہ "ملکہ کا کاکا آیا ہے” وغیرہ۔
اتنے خوش اور اپ ڈیٹڈ شاید وہاں کے ودھائی دینے والےکھسرے نہیں جتنے یہاں کے لوگ ہیں۔ ملکہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ کھسروں کے معاملے میں خیر  ہم بہت خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ایسی ورائٹی کم ہی جگہ نصیب ہوتی ہے۔ ساحر لودھی جیسے سُشل اور شستہ پیس سے لیکر شفقت چیمہ جیسے فولادی اور مضبوط کھسرے مارکیٹ میں ارزاں نرخوں پر بکثرت دستیاب ہیں۔ آپ حکم کریں تو خوشی دوبالا کرنے کیلئے کچھ ‘نگ’ بھجوادیں، یا جو کئی سال پہلے بھیجا تھا اسی سے گزارہ چلائیں گے؟
ویسے تو آپ بذاتِ خود کافی سیانی بیانی ہیں اور دو تین نسلیں بھگتا چکی ہیں  اور کاکے کی نگہداشت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گی مگر، بعد از مبارکباد، چند ضروری گذارشات ہیں جو پاکستانی عوام کے بی-ہاف پر آپ کے گوش گذار کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہوں:
– آجکل جاڑے کا موسم ہے، آپکے یہاں ویسے بھی بڑی ٹھنڈ پڑتی ہے، کاکے کا خاص خیال رکھنا
– جھنڈ اور ختنے وغیرہ کسی اچھے نائی سے کروائے گا کہ بڑی نازک صورتحال ہے اور مستقبل کا سوال ہے
– کاکے کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائے گا اور پولیو کے قطرے تو پلوانا بالکل بھی نہ بھولنا
– دوست ہزار بھی کم، دشمن ایک بھی بہت، کاکے کو نظرِبد سے بچانے کا  کالا ٹیکہ لگائے رکھنا
– نام کا شخصیت پر بڑا اثر پڑتا ہے، نام  جلدی سے دیکھ بھال کر اچھا سا فلمی ٹائپ رکھئے گا، کب تک ہم کاکا کاکا کہتے رہیں گے
باقی یہ کہ ویسے تو ہم نے چشمِ تخیل سے کاکا دیکھ لیا ہے مگر آپ کی طرف سے کاکے کی فوٹووں کا انتظار ہے، اس خط کے جواب میں ترنت ارسال کیجئے۔ جوابی لفافہ ساتھ بھیج رہے ہیں۔اور کاکا جیسے ہی بڑا ہو اسکو ہمارا ضرور بتائے گا۔
والسلام،
پونڈوں کا طالب، اور
آپ کا خیر اندیش
پاکستانی میڈیا”
شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ , | 21 تبصرے

رمضان المبارک اور ویلی مائیاں

اس سال ماہ رمضان کا پھر سے گرم موسم نے دوبالا کردیا ہے اور اس میں حسبِ سابق واپڈا نے اپنا حصہ بقدرِ جثہ ڈالا ہے، اس پہ طرہ  یہ کہ پورا رمضان معروف مذہبی اسکالر (عنقریب شیخ الاسلام) ڈاکٹر عامر لیاقت حسین صاحب سحر و افطار میں بلاناغہ ٹی وی کی زینت بنے رہتے ہیں۔ اس سال کی آنیاں جانیاں، پھرتیاں اور اچھل کود دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میں ساحر لودھی کی بھٹکی روح آگئی ہے۔  یہ پوسٹ ان لوگوں کیلئے ہے جو رمضان المبارک میں سب سے آئٹم چیز ڈاکٹر صاحب کو گردانتے ہیں، یقیناً انکا واسطہ کسی ویلی مائی سے نہیں پڑا۔ ببل گم، کچی لسی اور ویلی مائیوں کو جتنا ودا لو ودتی جاتی ہے۔ یہ بالکل وہی مائیاں ہیں جنکے بارے وہ انگریزی کہاوت ہے کہ جب بولتی ہیں تو شیطان کمرے کی نکڑ میں بیٹھ کر چپ چاپ سنتا اور برابر نوٹس لیتا ہے۔

ایسی مائیاں ہر گلی محلے میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ ویسے تو حضرت خضر کی ہم عمرہونگی مگر بالوں کو رنگ کر کے سوہنے کپڑے پہن کر ماڈرن کڑیاں بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ عمر اور تجربے کے لحاظ سے تو وہ ہمارے بزرگوں کی بزرگ لگتی ہیں مگر ماننے سے انکاری کہ ‘خیالِ زُہد ابھی کہاں، ابھی تو میں جوان ہوں’۔  زیادہ تر ان میں سے ریٹائرڈ استانیاں ہوتی ہیں۔ شادی یا تو کرتی نہیں یا بھگتا چکی ہوتی ہیں، جس کسی کا خاوند بچا ہو وہ بیچارا یا تو بلادِ غیریہ میں اماں لیتا ہے یا تمام عمر محلے کا منیٹر بن کے رہتا ہے۔ عموماً گلی محلے کا ایک ہی سکول ہوتا ہے جہاں سے دادا پڑھا وہیں سے پوتا اور اتنی دراز عمر استانیاں ہوں تو عجب نہیں کہ باپ بیٹا ایک ہی استاد سے سبق پڑھیں اور نہ بھی پڑھیں تو جیسے ہر پیدا ہونے والا بچا بائی ڈیفالٹ ڈالروں کا مقروض ہوتا ہے ویسی ان کی عزت و تکریم کا بھی پیدائشی مفروض ہوتا ہے۔ بیشتر مائیاں بعد از ریٹائرمنٹ محلے میں فی سبیل اللہ بچوں کو ٹیوشن اور خواتین کو گھرگرہستی پڑھاتی ہیں اور یہ انکی انفارمیشن کا پرائمری سورس ہوتا ہے۔ ٹیوشن فیس کی بجائے گھریلو حالات پوچھتی ہیں محلے کی خان جنگیوں اور سردمہریوں پہ خصوصی نظر رکھتی ہیں۔ محلوں میں انکا رول کم و بیش وہی ہوتا ہے جو گاؤں دیہاتوں میں پنجائیت کا۔ بلاوجہ ہر معاملے میں ٹانگ اڑائیں گی۔ انفارمیشن اور اپ ڈیٹڈ انفارمیشن بڑی ضروری ہوتی ہے۔ بقول شخصے انکا آپس میں مقابلہ ہوتا ہے کہ کونسی خبر پہلے کس نے بریک کی بلکہ اکثر نے تو ڈائری بنائی ہوتی ہے جس میں پوائنٹس نوٹ کرتی ہیں اور شاید مہینہ وار جیتنے والی خوش نصیب کو باقی مائیاں ٹریٹ دیتی ہیں۔

انکے کمرے کی کوئی نہ کوئی کھڑکی باہر گلی میں ضرور کھلتی ہے اور مصداق اس شعر کہ "بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی گذر کے جائے کیوں” ہر آنے جانے والے پر مکمل نظررکھتی ہیں۔ گھر کا کام کاج ٹیوشن والے بچے بچیاں کردیتے ہیں یہ ان کو سبق دے کر ہر آنے جانے والے کی کڑی نگرانی  کرتی ہیں اسی لیئے انہیں اکثر محلے میں چلنے والے افیئرز کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور اکثر رشتے بھی یہی  کرواتی ہیں۔ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہیں اور مہینوں پہلے ہی محلے کی آبادی میں مجوزہ اضافے کا عندیہ  بھی دے دیتی ہیں۔  ہم تو ایسی کھڑکیوں کو پولیس چوکی کہا کرتے تھے کہ اتنی انوسٹگیشن وہیں ہوتی ہے۔ انٹری ایگزٹ کا ٹائم برابر نوٹ ہوتا تھا اور کسی بھی قسم کی دیر سویر گھر میں رپورٹ ہوتی تھی۔ جب بھی کھڑکی کے سامنے سے گزرتے سوال آتا "ماں ستی اے کہ جاگدی پئی اے” پھپھو دا کی حال اے۔ رزلٹ آگیا؟ کتنے نمبر آئے؟ اتنے کم کیوں آئے، بشریٰ کی بیٹی کا تو اے گریڈ آیا ہے؟ آگے کہاں ایڈمیشن لے رہے ہو؟ کہاں جارے ہو؟ ذرا مجھے نلکی لا دینا سرخ رنگ کی اور تھوڑی دہی بھی اور ذرا سا دھنیا پودینا بھی اور دیکھنا نکڑ پہ پھل والا ہوا تو ایک خربوزہ پکڑ لانا۔ پیسے میں تمھاری اماں کو دے دونگی۔ ایسے میں ہر بچے کی کوشش ہوتی کہ یا تو ادھ بیٹھ کر چوکی کراس کرے یا بجلی کی تیزی سے گزرے کہ ریڈار کی زد میں نہ آسکے۔ محلے کا کوئی پڑھا لکھا بندہ ریڈار میں پھنس جائے تو انگریزی میں انٹرویو ضرور لیتیں۔ انگریزی بولنے میں کیا ملکہ حاصل تھا مگر ستیاناس جائے فرنگییوں کی ناقص زبان کا کہ استانی جی کی سپیڈ کے آگے انگریزی کے لفظ ختم ہوجاتے اور اکثر آواز کا اتار چڑھاؤ ایسا ہوجاتا جیسے سائیکل چلاتے ہوئے مفلر پہیے میں آجائے تو گلا رندھ جاتا ہے۔

ایک قدر ایسی تمام مائیوں میں مشترک ہوتی ہے جسے پنجابی میں ‘وارا’ لینا کہتے ہیں۔ یعنی جب دو عورتیں بات کررہی ہوں اور ایک زیادہ شاطر ہو اور دوسری کو بولنے کا موقع نہ دے تو اسکو وارا نہ لینے دینا کہتے ہیں۔ خواتین کے نزدیک آداب بحث کے سخت خلاف ہے یہ بات۔  اپنی اور اپنوں کی تعریف میں ماہر ہوتی ہیں اور زمین آسمان کے قلابے تو شاعر بھی ملا لیں یہ مریخ اور دوسری گلیکسیاں ملادیتی ہیں۔ انکے موڈ کی سمجھ نئیں آتی۔ سہیلیوں میں ہونگیں تو کبھی اپنوں کی ستم ظریفیاں اور کبھی غیروں کا تذکرہ اور اپنوں میں بیٹھیں گی تو سہیلیوں کی نظراندازیوں کے گلے۔ خیر، ان مائیوں کا حلقہء احباب چونکہ بہت وسیع ہوتا ہے اسی لیئے انکے پاس بے انتہاء کیس سٹڈیز ہوتی ہیں رشتوں سے لیکر بچوں اور خوشگوار زندگی سے لیکر طلاق کے قصوں، جن بھوتوں کی ہوشربا داستانوں سے لیکر ناگہانی آفات و بیماریوں کی باتیں۔ آپ کسی مرض کا نام لے کر دیکھ لیں وہ ان کو یا انکی کسی استانی کو یا اسکے خاندان میں کسی کو ہوچکا ہوگا۔ کثرتِ تعلیم و تجربے کے باعث سلیف میڈ ڈاکٹر بھی ہوتی ہیں اور موقع محل دیکھ کر مشورہ داغ دیتی ہیں۔   مثلاً کسی کو مسلسل تین چار دن سے گلے میں خراش کے سبب کھانسی ہے تو بجائے کھانسی شربت کا کہنے کے پہلے ایسی کوئی ہوشرباء داستان سنائیں گی کہ کیسے اسنکی کسی سہیلی کا جوان رشتہ دار معمولی سی لاپرواہی کے سبب سسک سسک کر کسمپرسی کی حالت میں دم توڑ گیا پھر انکشاف کریں گی کہ بیٹا تجھے ٹی بی ہے ، وقت سے پہلے علاج کروالے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔ ان سب کی یادداشتیں بہت تیز ہوتی ہیں۔ اور اکثر انکی پٹاری ایسے واقعات سے بھری ہوتی ہے جو بچپنے میں آپ سے سرزد ہوئے اور وہ رہتی دنیا تک آپ کی بِستی کیلئے کافی ہیں۔ مثلاً محلے کا کوئی نیا شادی شدہ جوڑا دیکھ لیں تو فوراً بولیں گی ماشاء اللہ کتنی پیاری بیوی ملی ہے تو ایویں وہ سامنے والی کے  پیچھے پاگل ہوا پھرتا تھا، بہو اسکا خاص خیال رکھنا بڑا جھلا ہے یہ بچپن میں زپ بند کرتے اکثر نونو پھنسا لیتا تھا۔ اور کسی باپ بیٹے کو ساتھ دیکھ کر انہیں باپ کے بچپن کے ایسے قصے یاد آئیں گے جن سے وہ باپ آج اپنی اولاد کو منع کرتا ہے۔ مثلاً آپ نے صبح ہی اپنے بچے کی سرزنش کی کہ بیٹا بستر پہ پیشاب کرنا بری بات ہے اور سرِشام ہی شومئی قسمت محلے کی استانی نے پول کھول دیا کہ "بیٹا جب آپ کے بابا چھوٹے ہوتے تھے نہ تو روز بیڈ پہ سُوسُو کردیتے تھے’ بچہ معنی خیز نگاہوں سے باپ کی طرف دیکھتا ہے اور باپ نظریں ملانے قابل نئیں رہتا۔

زمانے بھر کو باتوں میں پورا کرکے انکی باتوں کی ایسی پریکٹس ہوچکی ہوتی ہے کہ سو باتیں فی سیکنڈ کی سپیڈ سے بولتی ہیں جس کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ بلکہ غالب گمان تو یہ ہے کہ اتنی سپیڈ سے انکے فرشتے بھی مکمل  نوٹ نہیں کرپاتے ہونگے اور بعد ازاں ان کی ڈائری سے دیکھ کر دائیں اور بائیں والی باتیں الگ الگ کرکے نوٹ کرتے ہونگے۔  انکی  وارا،  نہ لینے کی عادت بارے ایک تشویش یہ ہے کہ جنت میں جاکر فرشتوں کے کان کتریں گی اور وہاں بھی کسی کو وارا نہیں لینے دیں گی۔ وہاں البتہ گفتگو ایسی ہوا کرے گی "ارے تمھیں پتہ ہے میری جنت کے بغل سے دودھ کی نہر گذرتی ہے” جواب:”اس میں کیا بڑی بات ہے میری نند کی بھاوج کی دیورانی کے گھر کے اندر سے دودھ کی نہر گزرتی تھی مگر انہوں نے ڈئزاین بدلا تو بند کروا دی”۔  اب بھی ہم کسی ایسی کھڑکی سے گزرتے ہیں اور مانوس آواز نہیں پاتے تو دل بیٹھا جاتا ہے، بلاشبہ ایسی ویلی مائیاں محلوں کی شان ہوتی ہیں اور محلوں کی رونق اور تعلق داری کی ضامن ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے یہ ناپید ہورہی ہیں محلے بے رونقے اور انجان بنتے جارہے ہیں۔

شائع کردہ از بلاگ | ٹیگ شدہ | 22 تبصرے